بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کی کار غریبوںاور کارکنوں میں موضوع بحث
حیدرآباد۔/17 جولائی، ( سیاست نیوز) عوامی منتخب نمائندے دن رات غریبوں کی خدمت اور ان کی بھلائی کیلئے خود کو وقف کردینے کے دعوے کرتے ہیں۔ انتخابات سے قبل یہ دعوے عروج پر ہوتے ہیں لیکن انتخابات میں کامیابی کے فوری بعد غریبوں کو فراموش کردیا جاتا ہے۔ قیمتی گاڑیوں میں سفر کرتے ہوئے غریبوں کے مسائل جاننے کی کوشش دراصل غربت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ یوں تو تلنگانہ کے بیشتر ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کے پاس قیمتی کاریں موجود ہیں لیکن بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نظام آباد ڈی اروند کی Lexus گاڑی نہ صرف پارٹی کارکنوں بلکہ رائے دہندوں میں بحث کا موضوع بن چکی ہے۔ سابق رکن راجیہ سبھا ڈی سرینواس کے فرزند ڈی اروند کی کار کی قیمت مارکٹ میں 60 لاکھ سے لے کر 2 کروڑ 33 لاکھ کے درمیان ہے اور گاڑی کی یہ قیمت اس کے ماڈل اور سہولتوں پر منحصر ہوتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اروند کی کار انتہائی مہنگی ہے اور وہ جب اس گاڑی کے ذریعہ اپنے رائے دہندوں کے درمیان جاتے ہیں تو لوگ صرف گاڑی کو دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ بننے کے بعد سے اچانک آمدنی میں کہاں سے اضافہ ہوگیا کہ اروند نے انتہائی قیمتی گاڑی خریدی ہے۔ گزشتہ دنوں اپنے حلقہ انتخاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورہ پر اروند پہنچے لیکن ان کا استقبال پھولوں سے نہیں بلکہ سنگباری سے کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ لوگ مصیبت کے وقت نظرانداز کرنے اور حالات سدھرنے کے بعد دورہ کرنے پر ناراض تھے۔ عوام کا کہنا تھا کہ لوگوں کی پریشانی کا تماشہ دیکھنے کیلئے آئے ہیں حالانکہ انہیں مصیبت کے وقت دادرسی کیلئے آنا چاہیئے تھا۔ لاکھوں کروڑوں مالیت کی گاڑیوں میں سفر کرنے والے عوامی نمائندے غریبوں کی مشکلات اور تکالیف کو کیا محسوس کریں گے۔ر