غریب مکینوں کو نوٹسوں کے ذریعہ ہراساں نہ کیا جائے

   

کانگریس قائد گوردھن کا مطالبہ ، نظام آباد میں محکمہ جنگلات کی کارروائی سے مقامی عوام کو مشکلات
نظام آباد۔ 11 اکتوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نظام آباد شہر کی بہوجن کالونی، دوڈی کومرایا نگر، 300 کوارٹرس، اسد بابا نگر، ابراہیم نگر، دھرم پوری ہلز اور ڈی ایس کالونی کے عوام کو جنگلاتی اراضی پر مکانات تعمیر کرنے کے الزام میں جاری کردہ نوٹسوں کے معاملے میں کانگریس پارٹی کے ترجمان اور بہوجن کالونی ڈیولپمنٹ کمیٹی کے صدر گووردھن کی قیادت میں مقامی افراد نے محکمہ جنگلات کے نارتھ رینج آفیسر سبھاش گوڑ کو نمائندگی پیش کرتے ہوئے نوٹسوں کا جواب دیا اور مسئلے کے مستقل حل کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر ملیالہ گووردھن نے کہا کہ 2005 میں کانگریس حکومت نے غریب خاندانوں کو مکانات کے پٹّے منظور کرتے ہوئے اراضی الاٹ کی تھی، جہاں گزشتہ تقریباً 20 برس سے غریب خاندان مکانات تعمیر کرکے مقیم ہیں۔ ان کے مطابق، ان بستیوں میں برقی کھمبے نصب کرنے کے علاوہ ہر گھر کو برقی میٹر فراہم کیے گئے، مکانات کو نمبرات الاٹ کیے گئے، بلدیاتی ٹیکس عائد کیے گئے اور سڑکوں و ڈرینیج کی تعمیر جیسے ترقیاتی کام بھی انجام دیے گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کے باوجود محکمہ جنگلات کے نوٹسوں کے باعث مقامی عوام کو مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت کی جانب سے منظورہ اندراما مکانات کی تعمیر میں بھی رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو سابقہ دورِ حکومت میں بھی اٹھایا گیا تھا اور ضلع کی انچارج وزیر سیتا اکّا سے بھی نمائندگی کی گئی تھی۔ گووردھن نے مطالبہ کیا کہ شہر کی توسیع اور اراضی سے متعلق تنازعہ کے پیش نظر محکمہ جنگلات اور محکمہ مال کے عہدیدار مشترکہ سروے انجام دیں، اراضی کی حقیقی نوعیت کا تعین کریں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرتے ہوئے مستقل حل نکالیں۔ ان کے مطابق، ان علاقوں میں تقریباً 10 ہزار خاندان آباد ہیں، جن کے مستقبل کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس موقع پر بہوجن کالونی کے قائدین ماروتی، لکشمی، محبوب، عارف، گنگا، رکشا، زرینہ اور بڑی تعداد میں مقامی افراد موجود تھے۔