بیروت : اسرائیل کی فاقہ کشی اور اجتماعی سزا کی پالیسیاں بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں، انسانی امداد کی فراہمی کو روکنا درحقیقت ہمارے عوام کی نسل کشی کا ایک ہی حصہ ہے۔ حماس نے غزہ کی سرحدی گزرگاہوں کی مسلسل بندش کی مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی کا تسلسل اور ایک ’جنگی جرم‘ قرار دیا جس کے خلاف بین الاقوامی کاروائی لازمی ہے۔ حماس کے ترجمان عبد اللطیف القنوع نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ غزہ کا محاصرہ سخت کرنا، 6 دن تک گزرگاہوں کو بند رکھنا، اور انسانی امداد کی فراہمی کو روکنا درحقیقت ہمارے عوام کی نسل کشی کا ایک ہی حصہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی بھوک پالیسی اور اجتماعی سزا بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور ایک جنگی جرم ہے، جسے دنیا کو روکنا چاہیے اور اس کے مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔ قنوع نے بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ “قابض اسرائیل کو گزرگاہوں کو کھولنے ، غزہ میں انسانی اور طبی امداد کی اجازت دینے اور غزہ کے فلسطینیوں کی تکالیف کو کو ختم کرنے پر آمادہ کرے۔ اسرائیل نے اتوار کو غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی روک دی کیونکہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے تل ابیب اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے مرحلہ پر مذاکرات شروع کرنے سے انکار کر دیا۔