امریکہ سمیت بیرونی ممالک میں غیر قانونی نقل مکانی کا ہندوستان سخت مخالف
واشنگٹن: امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ اقتدار سنبھالتے ہی ایکشن موڈ میں آ گئے ہیں۔ انہوں نے امریکہ میں مقیم غیر قانونی تارکین کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ جن لوگوں کے پاس ویزا کی مکمل دستاویزات نہیں ہیں وہ خوفزدہ ہیں۔ دریں اثنا، سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان امریکہ میں غیر قانونی طور پر رہنے والے ہندوستانیوں کی قانونی واپسی کیلئے تیار ہے؟ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس بارے میں ہندوستان کا موقف واضح کیا ہے۔ امریکہ میں ایس جے شنکر نے ہندوستان کے موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی امریکہ سمیت بیرونی ممالک میں غیر قانونی طور پر رہنے والے ہندوستانی شہریوں کی قانونی واپسی کیلئے تیار ہے۔وزیر خارجہ جے شنکر نے کل واشنگٹن ڈی سی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے ہمیشہ یہ مان رکھا ہے کہ اگر ہمارا کوئی شہری یہاں قانونی طور پر رہ رہا ہے اور اگر ہمیں یقین ہے کہ وہ ہمارا شہری ہے تو ہم اس کے قانونی قیام کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ایس جے شنکر نے واضح کیا کہ اس معاملے پر ہندوستان کا موقف مسلسل اوراصولی رہا ہے۔یہ بات انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی واضح طور پر کہی۔جے شنکر نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ اس وقت ایک خاص بحث چل رہی ہے اور اس کے نتائج میں حساسیت ہے۔ لیکن ہندوستان مستقل مزاجی سے کام لے رہا ہے۔ اس بارے میں ہم اصول پر عمل پیراہیں۔ وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہندوستان دونوں ممالک کے درمیان قانونی نقل و حرکت کی حمایت کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہندوستانی ہنر کو عالمی سطح پر بہترین مواقع ملنے چاہیے۔ تاہم ہندوستان غیر قانونی نقل مکانی کا سخت مخالف ہے کیونکہ یہ شہریت کے نقطہ نظر سے بہتر نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سی غیر قانونی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں۔یہاں یہ تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ امریکہ میں ہندوستانیوں کی بڑی تعداد مقیم ہے اور ٹرمپ کے نئے فیصلوں سے ان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔