غیرمسلم طلبہ کے مدرسوں میں داخلوں پر تحقیقات۔ این سی پی سی آر

,

   

مذکورہ مدرسوں میں داخل کئے گئے تمام غیرمسلم طلبہ کو رسمی اسکولوں میں داخل کرانے کی بھی این سی پی سی آر نے چیف سکریٹریز سے سفارش کے علاوہ تمام غیر درجہ بندمدرسوں کی درجہ بندی کی بھی سفارش کی ہے۔


نئی دہلی۔ قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال (این سی پی سی آر)تمام ریاستوں اوریونین ٹیرٹریزتحریر روانہ کی ہے اور ہدایت دی ہے کہ وہ تمام تسلیم شدہ مدرسوں میں غیرمسلم طلبہ کی تفصیلی تحقیقات کرائیں۔

مذکورہ مدرسوں میں داخل کئے گئے تمام غیرمسلم طلبہ کو رسمی اسکولوں میں داخل کرانے کی بھی این سی پی سی آر نے چیف سکریٹریز سے سفارش کے علاوہ تمام غیر درجہ بندمدرسوں کی درجہ بندی کی بھی سفارش کی ہے۔

جمعرات کے روز جس مکتوب پر این سی پی سی آر چیرپرسن پرینکا کانگو نے دستخظ کی ہے کا کہنا ہے کہ مختلف شکایتیں جو انہیں موصول ہوئی ہیں اس کی بنیاد پر یہ مانا جارہا ہے کہ غیرمسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے بچے سرکاری امداد ی‘ تسلیم شدہ مدرسوں میں جارہے ہیں“۔

مدراس بطور ادارہ بنیادی طور پر بچوں کو مذہبی تعلیم دینے کے ذمہ دار ہیں۔ جو تین اقسام کے ہیں ”تسلیم شدہ مدراس‘ غیرتسلیم شدہ مدارس اورغیر درجہ بند مدراس“۔

بعدازاں کمیشن کا کہنا ہے کہ ”تاہم ایسا سمجھا جارہا ہے کہ وہ مدارس جس کو حکومت کی جانب سے تسلیم کیاگیاہے اور حکومت امداد دی رہی ہے کچھ حد تک مذہبی اور رسمی دونوں تعلیم دے رہے ہیں۔

مزیدیہ کہ کمیشن کے ذریعہ سے یہ بھی معلوم ہے کہ بعض ریاست/یوٹی حکومتیں انہیں اسکالر شپ بھی فراہم کررہی ہیں۔