ہائی کورٹ کے فیصلہ میں مداخلت سے انکار، اے سی بی تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت
حیدرآباد۔/15جنوری، ( سیاست نیوز) سپریم کورٹ میں آج بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ کو اس وقت دھکہ لگا جب فارمولہ ای ریسنگ مقدمہ کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کو مسترد کردیا گیا۔ سپریم کورٹ نے واضح کردیا کہ وہ تحقیقات کے معاملہ میں مداخلت نہیں کرے گی۔ کے ٹی آر نے اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے درج کردہ مقدمہ کو کالعدم قرار دینے کیلئے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جسے حال ہی میں نامنظور کردیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے کے ٹی آر 8 جنوری کو سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے۔ جسٹس بی ایم تریویدی اور جسٹس پرسنا پر مشتمل بنچ نے درخواست کی سماعت کی۔ کے ٹی آر نے اپنی درخواست میں کہا کہ یہ مقدمہ سیاسی مقاصد کے تحت درج کیا گیا ہے کیونکہ وہ فی الوقت اپوزیشن میں ہیں۔ کے ٹی آر کے وکیل نے کہا کہ اپوزیشن میں ہونے کے سبب ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جسٹس بی ایم تریویدی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر ہونے پر مقدمہ کا سامنا کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلہ میں مداخلت نہیں کریں گے۔ کے ٹی آر کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں درخواست واپس لیتے ہوئے دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ درخواست سے دستبرداری کی اجازت دی جاسکتی ہے لیکن ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ جس پر درخواست گذار نے اپیل سے دستبرداری کی اطلاع دی۔ واضح رہے کہ اینٹی کرپشن بیورو کی تحقیقات کا سامنا کرنے والے کے ٹی آر کی ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست پر عدالت نے تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت دی تھی جس کے خلاف کے ٹی آر سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے لیکن یہاں بھی کوئی راحت نہیں ملی۔ کے ٹی آر کی درخواست مسترد کئے جانے سے اینٹی کرپشن بیورو کی تحقیقات جاری رکھنے کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔ کے ٹی آر ایک مرتبہ اینٹی کرپشن بیورو کے روبرو رجوع ہوچکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی نے دلائل پیش کئے اور بتایا کہ گورنر نے کے ٹی آر کے خلاف جانچ کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے ذریعہ حقائق منظر عام پر آسکتے ہیں۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے مکل روہتگی نے کہا کہ کے ٹی آر نے اندرون 24 گھنٹے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔1