فارمولہ ۔ ای کے لیے ٹینک بنڈ اور نکلس روڈ کا انتخاب

   


کار ریس کے لیے تیاریاں جاری ، درختوں کی کٹوائی پر جہد کاروں کی تنقید
حیدرآباد۔8۔نومبر۔(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں فارولہ ۔ای مقابلہ کے انعقاد کے لئے ٹینک بنڈ اور نکلس روڈ کا انتخاب کرتے ہوئے شہریوں میں نیا جوش و خروش پیدا کیا گیا تھا لیکن اب فارمولہ ۔ای کا ر ریس کے لئے تیاریوں کے دوران نکلس روڈ پر موجود درختوں کو کاٹ دیئے جانے پر ماحولیات کے تحفظ کے لئے سرگرم جہدکاروں کی جانب سے شدید مذمت کی جا رہی ہے او ر کہا جا رہاہے کہ فارمولہ ۔ای کے ایک ایونٹ کے لئے شہر کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لئے لگائے جانے والے برسو ں پرانے درخت کاٹ دیئے گئے ہیں جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ نکلس روڈ پر موجود سڑک کے درمیانی حصہ میں موجود درختوں کو مکمل طور پر اکھاڑدیئے جانے اور اس کی جگہ سڑک کی تعمیر کئے جانے کو ماحولیات کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والوں کی جانب سے ماحولیات کے قتل سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے مشترکہ طور پر کاروائی کرتے ہوئے اس مصروف اور اہم سڑک پر موجود خوبصورت تناور درخت کاٹ دیئے ہیں جبکہ شہریوں کی جانب سے اگر درختوں کو کاٹا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ان کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے کیونکہ درختوں کو کاٹنے سے آلودگی میں اضافہ کا خدشہ ہوتا ہے۔ متفکر شہریوں نے ٹوئیٹر کے ذریعہ حکومت ‘ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے ذمہ دارو ںکو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے استفسار کرنا شروع کیا ہے کہ آخر اتنی محنت سے لگائے گئے درخت کہاں گئے !حکومت کی جانب سے ہریتا ہرم پراجکٹ کے نام پر کروڑہا روپئے کے خرچ سے درخت لگانے کے اقدامات کررہی ہے اور سال میں دو مرتبہ مہم چلاتی ہے لیکن دوسری جانب فارمولہ ۔ای کے نام پر سینکڑوں درختوں کو کاٹ دیا گیا ہے۔دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں درختوں سے محبت کرنے والے اور درختوں کے تحفظ کرنے والے گروپس کی جانب سے بھی نکلس روڈ پر کی گئی کاروائی کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے اور کہاجا رہاہے کہ فارمولہ ۔ای ریس کے نام پر درختوں کو جس انداز میں اکھاڑ پھینکا گیا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔جہدکاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت یا جی ایچ ایم سی اور ایچ ایم ڈی اے کی جانب سے اس سلسلہ میں تجاویز طلب کی جاتی یا ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی تو ایسی صورت میں ان درختوں کو کسی اور جگہ منتقل کیاجاسکتا تھا لیکن ایسا نہ کرتے ہوئے ان درختوں کو تلف کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔م