حیدرآباد۔ 24 مئی (سیاست نیوز) محمد فاروق حسین سابق ایم ایل سی جنہیں بی آر ایس پارٹی کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کی ہدایت پر ورکنگ پریسیڈنٹ تارک راما راؤ نے حلقہ اسمبلی میدک کیلئے پارٹی رکنیت سازی مہم کا انچارج مقرر کیا ہے۔ انہوں نے اپنی اس ذمہ داری کو بخوبی نبھاتے ہوئے بی آر ایس کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کے سی آر اور کے ٹی آر سے اظہار تشکر کرتے ہوئے سیاست نیوز کو بتایا کہ آج تلنگانہ میں دیہی علاقوں سے لے کر شہری علاقوں کے عوام بلالحاظ مذہب و ملت کے سی آر کے دور اقتدار کی ستائش کرتے ہیں۔ عوام ،بی آر ایس کے دور اقتدار پر واپسی کا انتظار کررہے ہیں۔ فاروق حسین نے بتایا کہ 10 سالہ بی آر ایس کی حکمرانی میں تلنگانہ کا ہر طبقہ خوشحال تھا لیکن بی آر ایس کی مقبولیت کو کم کرنے کیلئے کانگریس پارٹی جو اقتدار کیلئے بے چین تھی، سادہ لوح عوام کو اپنی جانب راغب کرنے میں من مانی وعدہ کرتے ہوئے عوام کو دھوکہ دیا۔ آج ساری ریاست کے عوام کو پچھتاوا ہے کہ کانگریس پر انتخابی وعدوں سے انحراف کرتے ہوئے تلنگانہ کو کنگال بنادیا۔ نظم و نسق پوری طرح ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ شہر میں وقفہ وقفہ سے قتل کی وارداتوں کا ہونا معمول بن چکا ہے۔ اب تو دن دھاڑے فلمی انداز میں ایک ایڈوکیٹ کا قتل کردیا گیا۔ آخر محفوظ کون ہے؟ بیروزگار نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لئے ملازمت کے انتظار میں ہیں۔ بی آر ایس کے دور اقتدار میں عوام نے کبھی برقی کے معاملے میں لب کشائی نہیں کی بلکہ گھروں میں اِنورٹر کا استعمال بھی نہیں ہوا۔ آج ڈھائی سالہ کانگریس کے دور اقتدار میں عوام یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ برقی کی سربراہی کا تو کوئی وقت ہی مقرر نہیں ہے۔ بل کی ادائیگی صارفین کی طرف سے بروقت ہونے کے باوجود برقی کٹوتی ہوتی رہتی ہے۔ یہ حکمرانی ہے۔ شادی مبارک اسکیم ہو یا ایک تولہ سونا دینے کا وعدہ برف دان میں چلا گیا۔ ایسے حالات میں عوام کو ابھی سے کمربستہ ہوجانے اور بی آر ایس پارٹی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ فاروق حسین نے مزید کہا کہ رکنیت سازی کی ذمہ داری میں کوئی کسر باقی نہیں رکھوں گا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ’’دھوپ کتنی بھی سخت ہو سمندر کو نہیں سکھا سکتی‘‘۔