فرضی دستخط معاملہ ‘ سی آئی ڈی ٹیم ممتا بنرجی کی قیامگاہ پہونچ گئی

,

   

سرچ وارنٹ کے ساتھ ٹیم کی آمد ۔ ابھیشیک بنرجی کے دفتر اور گھر پر بھی تحقیقاتی عملہ کی آمد ۔ ترنمول سربراہ کی مشکلات میںاضافہ

کولکاتہ 9 جون ( ایجنسیز ) مغربی بنگال کی سابق چیف منسٹر ممتابنرجی کی مشکلات میں لگاتار اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ایک طرف جہاں ان کے ارکان پارلیمنٹ کی بڑی تعداد بغاوت کرتی نظر آر ہی ہے وہیں دوسری طرف اب ارکان اسمبلی کے فرضی دستخط کے معاملہ میں تحقیقات ان کے در تک پہونچ گئی ہیں۔ سی آئی ڈی کی ایک ٹیم آج ان کی کولکاتہ کی قیامگاہ پہونچ گئی تھی تاکہ فرضی دستخط کے معاملہ کی تحقیقات انجام دی جاسکیں۔ ریاست کی تحقیقاتی ایجنسی کے عہدیدار کالی گھاٹ پولیس اسٹیشن کے عملہ کے ساتھ اور بڑی تعداد میں خاتون پولیس عہدیداروں کے ساتھ ممتابنرجی کی قیامگاہ پہونچ گئے تھے ۔ ان کی آمد دو پہر کے وقت ہوئی ۔ سی آئی ڈی نے ممتابنرجی کے گھر کا دورہ ایسے وقت میں کیا ہے جبکہ ایجنسی کی جانب سے نوٹس جاری کی گئی تھی جس میں ترنمول ارکان اسمبلی کے جعلی دستخط کرنے کی تفصیل پیشکرنے کو کہا گیا تھا ۔ الزام ہے کہ اسپیکر اسمبلی کو قائد اپوزیشن کی حیثیت سے نامزدگی کیلئے جو مکتوب روانہ کیا گیا تھا اس پر ارکان اسمبلی کے فرضی دستخط ہیں۔ سی آئی ڈی عہدیدار جو ممتابنرجی کی قیامگاہ پہونچے تھے ان کے پاس سرچ وارنٹ بھی تھا ۔ ترنمول کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کی جانب سے داخل کئے گئے جواب کی بنیاد پر سی آئی ڈی نے گھر کی تلاشی لینے کی کوشش کی تھی ۔ ابھیشیک بنرجی کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی کے دستخط پارٹی کے مرکزی دفتر ہریش چٹرجی اسٹریٹ میں حاصل کئے گئے تھے ۔ اس بیان کی بنیاد پر سی آئی ڈی کی ٹیم وہاں پہونچی تھی ۔ سی آئی ڈی کے ایک عہدیدار نے یہ بات بتائی ۔ سی آئی ڈی نے آج تین ٹیمیں روانہ کی تھیں۔ ایک ٹیم ممتابنرجی کی قیامگاہ پہونچی ۔ ممتابنرجی فی الحال دہلی میں ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک ٹیم ابھیشیک بنرجی کے دفتر اور ایک اور ٹیم ابھیشیک بنرجی کے گھر پر پہونچی ہے ۔ سارا تنامعہ اس وقت شروع ہوا تھا جب ترنمول کانگریس پارٹی نے ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے سینئر رکن اسمبلی سون دیب چٹوپادھیائے کو قائد اپوزیشن بنانے کی اسپیکر اسمبلی سے خواہش کی تھی ۔ اس پر کئی ارکان اسمبلی کے دستخط موجود تھے ۔ ترنمول کے دو ارکان اسمبلی ریتابرتا بنرجی اور سندیپن ساہا نے اسپیکر سے شکایت کی تھی کہ یہ قرار داد فرضی ہے اور اس پر جو 70 دستخط کئے گئے ہیں ان میں کم از کم 14 فرضی ہیں۔ ان الزامات کے بعد ایف آئی آر درج کرتے ہوئے سی آئی ڈی کی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔ ترنمول کانگریس نے شکایت کرنے والے دونوں ہی ارکان اسمبلی کو پارٹی سے خارج کردیا گیا تھا جس کے بعد بڑے پیمانے پر انرحفا کی صورتحال پیدا ہوگئی اور کئی ارکان اسمبلی نے پارٹی کے اجلاسوں سے دوری اختیار کرنی شروع ردی تھی ۔