اشوک نے سیدنواز کو بچاتے ہوئے اپنی جان دے دی
حیدرآباد /27 ڈسمبر ( پریس نوٹ ) ریاست تلنگانہ کے لواکرتی کے علاقے میں اشوک نامی نوجوان نے اس فرقہ پرستی کے زہر کو انسانیت اور بھائی چارگی کے تریاق سے مات دیتے ہوئے فرقہ پرستوں کے گال پر زوردار طمانچہ رسید کیا اور یہ پیغام دیا کہ انسانیت اور بھائی چارگی ہمارے ملک کی وراثت ہے ۔ اس کو کوئی بھی ختم نہیں کرسکتا کتا کوٹا کے قریب ایک ولیج کا رہنے والا اشوک نامی نوجوان نے سید نواز جو کلواکرتی کا رہنے والا تھا ایک سڑک حادثے میں زخمی تڑپ رہا تھا ۔ اس اثناء اشوک نامی نوجوان مذہب سے بالاتر ہوکر انسانیت کا پرچم لہراتے ہوئے اس زخمی نوجوان جو ایک معصوم لڑکی کا باپ بھی بتایا گیا ہے ۔ اس کے قریب جاکر اشوک نے اس کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا اور اس زخمی سید نواز سے بات کر رہا تھا ۔ اشوک کو یہ معلوم ہوچکا تھا کہ زخمی ایک مسلمان ہے لیکن پھر بھی اشوک نے سید نواز کو اٹھاکر طبی امداد پہونچانا چاہتا تھا ۔ اسی اثناء ایک تیز رفتار لاری نے اشوک کو بھی روند دیا اور اشوک اور سید نواز برسر موقع فوت ہوگئے ۔ مسلم یونائٹیڈ فیڈریشن کا ایک وفد مولانا حکیم صوفی سید شاہ محمد خیرالدین قادری صدر مسلم یونائیٹیڈ فیڈریشن کی قیادت میں اشوک کے گاؤں پہونچا اور اشوک کے والدین سے ملاقات کی اور تفصیلات سے آگاہی حاصل کیا ۔ اشوک کے والد نے کہا میرا بیٹا اپنے مسلم بھائی کی جان بچاتے ہوئے بہادوری کا ثبوت دے کر گیا ہے اور انسانیت کو ایک پیغام دیا ہے ۔ مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے ۔مسلم یونائٹیڈ فیڈریشن حکومت تلنگانہ سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اشوک کے ماں باپ کو فوری ایکس گریشیا جاری کیا جائے اور تلنگانہ کے ملی سماجی تنظیم اور اہل ثروت حضرات سے یہ اپیل کی جاتی ہے کہ اشوک کے ماں باپ کی مدد کیلئے آگے بڑھیں ۔ 6281238978 پر اشوک کے اہل خانہ سے رابطہ پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ مسلم یونائٹیڈ فیڈریشن کے اس وفد میں میر عنایت علی باقری ، پروفیسر انور خان ، سید ایوب پاشاہ قادری ، مولانا محمد نور خان ، سبحان صدیقی ، مولانا محمد صدیق احمد، سید منہاج اور رحیم پاشاہ کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔