فلاحی اسکیمات کی مؤثر تشہیر کیلئے محکمہ اطلاعات کے عہدیداروں کو ہدایت

   

اضلاع کے عہدیداروں سے ویڈیو کانفرنس، وزیر اطلاعات سرینواس ریڈی اور کمشنر پریانک کی شرکت
حیدرآباد 22 جولائی (سیاست نیوز) وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ پی سرینواس ریڈی نے محکمہ کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ سرکاری اسکیمات خاص طور پر فلاحی اسکیمات کی مؤثر تشہیر کریں تاکہ اسکیمات کے فوائد عوام تک پہونچ جائیں۔ سرینواس ریڈی نے کمشنر اطلاعات و تعلقات عامہ سی ایچ پریانک کے ہمراہ تمام اضلاع کے محکمہ اطلاعات کے عہدیداروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کا اہتمام کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت کی فلاحی اسکیمات کی مؤثر انداز میں تشہیر نہیں ہورہی ہے۔ محکمہ اطلاعات کے عہدیداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعہ حکومت کی اسکیمات کی تشہیر کو یقینی بنائیں۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ حکومت ریونت ریڈی کی قیادت میں ترقی اور فلاح و بہبود کو اوّلین ترجیح دیتی ہے۔ گزشتہ 18 ماہ میں جن نئی اسکیمات کا آغاز کیا گیا اُن کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ 10 سال تک برسر اقتدار رہنے والی بی آر ایس آج اپوزیشن میں رہ کر حکومت کے خلاف گمراہ کن پروپگنڈہ کررہی ہے۔ محکمہ اطلاعات کے عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ اپوزیشن کے پروپگنڈہ کا مؤثر انداز میں جواب دیں اور عوام تک اسکیمات کے حقائق کو پیش کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر پروپگنڈہ کا جواب نہیں دیا گیا تو اسکیمات بے فیض ثابت ہوں گی۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ انتخابی وعدوں کی تکمیل کے علاوہ حکومت نے روزگار کی فراہمی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک سال میں 60 ہزار سرکاری ملازمتوں پر تقررات کئے ہیں۔ خواتین کو 500 روپئے میں گیس سیلنڈر، غریبوں کو 200 یونٹ مفت برقی سربراہی، کسانوں کے لئے رعیتو بھروسہ کی امدادی رقم میں اضافہ، نوجوانوں کے لئے اسکل یونیورسٹی، طلبہ کے لئے انٹیگریٹیڈ اسکول، ڈائٹ چارجس میں 40 فیصد اضافہ، اندراماں ہاؤزنگ اور راشن کارڈ کی تقسیم جیسی اسکیمات کو عوام تک پہونچایا جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ گزشتہ حکومت نے 10 برسوں میں جو کام انجام نہیں دیئے کانگریس حکومت نے ایک سال میں کر دکھایا ہے۔ 10 برسوں میں نئے راشن کارڈس کی اجرائی کا خیال نہیں آیا جبکہ کانگریس حکومت نے 7 لاکھ نئے کارڈس کو منظوری دی ہے۔ راشن کارڈ کے ذریعہ باریک چاول کی سربراہی حکومت کا کارنامہ ہے۔ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ درکار وسائل کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے عوام تک رسائی حاصل کریں۔1