فنڈس کی کمی، حیدرآباد میں 3 لاکھ افراد آسرا پنشن سے محروم

   

57 سال عمر کے معاملہ میں رہنمایانہ خطوط کا انتظار، ایک لاکھ سے زائد نئی درخواستیں داخل
حیدرآباد۔ 31 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں معاشی ابتر صورتحال کے باعث حکومت نے کئی فلاحی اسکیمات پر عمل آوری روک دی ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے موقف میں حکومت نہیں ہے اور گزشتہ کئی ماہ سے ضعیفوں اور بے سہارا افراد کو آسرا پنشن جاری نہیں کیا گیا۔ حکومت نے آسرا پنشن کے لئے عمر کی حد گھٹاکر 57 سال کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک اس بارے میں رہنمایانہ خطوط جاری نہیں کئے گئے۔ چیف منسٹر نے آسرا پنشن کے لئے موجودہ عمر کی حد 65 سال کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مستحقین کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے 57 سال مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ 2019 سے تقریباً 3 لاکھ افراد جن میں ایک لاکھ نئے درخواست گذار شامل ہیں آسرا پنشن سے محروم ہیں۔ چیف منسٹر کے اعلان کے بعد حیدرآباد ضلع میں ایک لاکھ سے زائد نئی درخواستیں داخل کی گئیں لیکن عہدیداروں کو اسکیم کے رہنمایانہ خطوط کا انتظار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آسرا پنشن کے تحت ضعیف العمر، بیوہ، معذورین، بافندے، بیڑی ورکرس، ایڈس کے مریض، بے سہارا تنہا خواتین اور فلیریا کے مریضوں کو پنشن کے حصول کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ حیدرآباد ضلع کے 16 منڈلوں میں 2019 سے آسرا پنشن کی باقاعدہ ادائیگی کا نظم نہیں ہے۔ عہدیداروں کے مطابق فنڈس کی کمی نے اسکیم پر عمل آوری میں رکاوٹ پیدا کردی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ 3 لاکھ سے زائد افراد پنشن کے منتظر ہیں۔ فنڈس کی اجرائی کے لئے حکومت سے بارہا نمائندگی کی گئی لیکن محکمہ فینانس کا سرد مہری کا رویہ برقرار ہے۔ آسرا پنشن کے تحت جن منڈلوں میں عوام پنشن سے محروم ہیں ان میں عنبرپیٹ 14373، آصف نگر 7139، بہادر پورہ 19039، چارمینار 9393، بنڈلہ گوڑہ 21511، گولکنڈہ 5203، حمایت نگر 6481، نامپلی 12313، سعید آباد 8440 اور مشیر آباد 26633 شامل ہیں۔ ر