ہر رائے دہندہ اپنے نام کی جانچ کرے، بی جے پی کی خفیہ سازش کا اندیشہ
حیدرآباد ۔ 22 ۔ اپریل (سیاست نیوز) لوک سبھا چناؤ 2024 ملک میں سیکولرازم اور جمہوریت کے تحفظ میں اہم رول ادا کرے گا۔ یوں تو کوئی بھی الیکشن حکومت کی کارکردگی اور عوامی مسائل کی بنیاد پر لڑا جاتا ہے لیکن مرکز میں گزشتہ 10 برسوں سے برسر اقتدار بی جے پی نے فرقہ وارانہ ایجنڈہ پر انتخابی مہم کو مرکوز کردیا ہے۔ لوک سبھا چناؤ کے پہلے مرحلہ میں بی جے پی کیلئے اچھی خبر نہیں آئی ، لہذا پارٹی نے ہندوتوا ایجنڈہ کے ذریعہ سماج میں تفریق پیدا کرنے کی سازش کی ہے تاکہ بی جے پی کے حق میں ہندو ووٹ بینک مستحکم ہو۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کل راجستھان میں مسلمانوں کے بارے میں جس طرح زہر افشانی کی وہ وزیراعظم کے عہدہ کے شایان شان نہیں ہے۔ دستور پر حلف لینے والے نریندر مودی نے دراصل لوک سبھا چناؤ میں شکست کو محسوس کرلیا ہے ، لہذا اچانک انہوں نے ہندو اور مسلم کی سیاست شروع کردی ہے۔ نریندر مودی کے پاس انتخابی ضابطہ اخلاق کا کوئی پاس و لحاظ نہیں ہے اور نہ ہی الیکشن کمیشن کی کوئی اہمیت ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ الیکشن کمیشن نریندر مودی کے خلاف از خود کارروائی کرے لیکن یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا کیونکہ بقول سیاسی مبصرین مودی نے کمیشن میں اپنے نمائندوں کو مقرر کردیا ہے تاکہ وہ انتخابی عمل میں بی جے پی کی مدد کریں۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے اس ماحول میں ملک بھر میں مسلمانوں کو سخت چوکسی کی ضرورت ہے۔ بی جے پی اور سنگھ پر یوار کا کوئی اور لیڈر مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرے تو اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا لیکن عوامی منتخب وزیراعظم کی زبان سے مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی سے ان کے سابق میں کئے گئے مسلمانوں سے وعدے اور تیقنات کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ وزیراعظم کی تقریر مسلم رائے دہندوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے اور آئندہ کے مرحلوں میں مسلمانوں کو منظم انداز میں سیاسی شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیکولر طاقتوں کی کامیابی میں اپنا رول ادا کرنا ہوگا۔ مسلمانوں کی رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کیلئے اگرچہ ملک گیر سطح پر مہم چلائی جارہی ہے لیکن اس مہم کے ساتھ ساتھ فہرست رائے دہندگان کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے حالیہ دنوں تک بھی فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کیلئے درخواستیں وصول کی گئیں لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ فہرست رائے دہندگان سے مسلمانوں کی دلچسپی نہیں کے برابر ہے ۔ عین رائے دہی کے دن پولنگ اسٹیشن پہنچ کر فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی عدم موجودگی کی شکایت کی جاتی ہے حالانکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ناموں کی موجودگی کا پتہ چلانے کا ایک سے زائد مرتبہ موقع دیا جاتا ہے ۔ کمیشن کے عہدیدار ہر پولنگ اسٹیشن پر نئی فہرست کے ساتھ موجود رہتے ہیں لیکن مسلمانوں کے پاس اتنی فرصت نہیں کہ وہ اپنے گھر کے قریب واقع پولنگ اسٹیشن پہنچ کر اپنے نام کی موجودگی کا جائزہ لیں۔ رائے دہی کے بارے میں شعور بیداری سے کیا فائدہ جب فہرست رائے دہندگان میں نام موجود نہ ہو۔ مسلم جماعتوں ، تنظیموں اور جہد کاروں کو فہرست رائے دہندگان پر توجہ دینی چاہئے ۔ یوں تو گزشتہ 10 برسوں میں 2 لوک سبھا چناؤ اور کئی ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں مسلم رائے دہندوں کے نام فہرست سے غائب ہونے کی کئی شکایات ملی ہیں ۔ باوجود اس کے الیکشن 2024 کے لئے مسلمانوں نے کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی۔ ایک طرف ناموں کی شمولیت تو دوسری طرف فہرست میں ناموں کی موجودگی کا جائزہ لینا یہ دو ایسے اہم کام ہے جو ملک کی جمہوری انتخابی سیاست کو مضبوط کرسکتے ہیں۔ لوک سبھا چناؤ کے پہلے مرحلہ میں کئی ریاستوں میں مسلم رائے دہندوں کے نام غائب ہونے کی شکایات ملی ہیں۔ سوشیل میڈیا پلیٹ فارم پر مسلم اکثریتی علاقوں کے کئی ویڈیوز وائرل ہوئے جس میں مسلمانوں کو شکایت کرتے ہوئے سنا گیا کہ 2019 میں ان کے نام فہرست میں شامل تھے لیکن اس مرتبہ سینکڑوں نام حذف کردیئے گئے ۔ ناموں کی شمولیت اور انہیں خارج کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کا طریقہ کار موجود ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو رائے دہی سے دور رکھنے کیلئے مسلم علاقوں میں مسلم رائے دہندوں کے نام کسی شکایت کے بغیر ہی حذف کردیئے گئے ۔ اس بارے میں الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ الیکشن کی تکمیل کے بعد دوبارہ درخواست دیتے ہوئے ناموں کو بحال کیا جاسکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کس کی شکایت اور کس کے اشارہ پر یہ نام حذف کئے گئے ۔ بہار ، اترپردیش ، مہاراشٹرا ، راجستھان ، چھتیس گڑھ ، مدھیہ پردیش حتیٰ کہ جموں و کشمیر میں بھی گزشتہ 10 برسوں میں مسلمانوں کے ناموں کو حذف کرنے کی شکایات ملی ہیں۔ تلنگانہ اور آندھراپردیش بھی اس صورتحال سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ 2019 لوک سبھا الیکشن میں کئی اضلاع کے مسلم رائے دہندوں نے ناموں کی عدم موجودگی کی شکایت کی ہے ۔ اب جبکہ لوک سبھا الیکشن دستور اور جمہوریت کے بچاؤ کے لئے اہمیت کا حامل ہے ، لہذا مسلم جماعتوں ، تنظیموں ، رضاکارانہ اداروں، جہد کاروں اور خود رائے دہندوں کو چوکسی اختیار کرنی چاہئے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم امیدواروں اور پارٹیوں کو مسلمانوں کے ووٹ تو چاہئے لیکن انہیں فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت اور برقراری سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ناموں کی شمولیت کے لئے اکثریتی فرقہ میں منظم انداز میں مہم چلائی جاتی ہے لیکن مسلمانوں میں شاذ و نادر ہی کسی تنظیم نے یہ بیڑہ اٹھایا ہو۔ الیکشن کمیشن کی فہرست رائے دہندگان کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا اور اگر پولنگ کے دن فہرست میں نام شامل نہ ہو تو مایوسی کے سوا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ 13 مئی کو رائے دہی سے قبل ہی مسلم رائے دہندے الیکشن کمیشن کی ویب سائیٹ پر اپنے نام کی موجودگی کی جانچ کریں تاکہ الیکشن کے مرحلہ تک ریاست میں چیف الیکٹورل آفس سے نمائندگی کی جاسکے۔ تلنگانہ میں بی جے پی 10 لوک سبھا حلقوں میں کامیابی کا منصوبہ بناچکی ہے اور ان میں ایسے حلقہ جات شامل ہیں جہاں مسلم رائے دہندوں کی قابل لحاظ آبادی ہے۔ بی جے پی کو مسلمانوں کے ووٹ کی امکانی تقسیم پر بھروسہ ہے جبکہ مبصرین کو اندیشہ ہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں فہرست رائے دہندگان سے بڑے پیمانہ پر ناموں کو حذف کرنے کی سازش کی جاسکتی ہے ۔ سکندرآباد ، کریم نگر ، میدک ، عادل آباد ، نظام آباد ، ظہیر آباد اور محبوب نگر لوک سبھا حلقوں سے تعلق رکھنے والے مسلم رائے دہندوں کو فہرست رائے دہندگان کا جائزہ لینا چاہئے ۔ حیدرآباد میں بھی اس سلسلہ میں شعور بیداری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن پر مودی حکومت کے مکمل کنٹرول کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا اور کمیشن غیر جانبداری کا لاکھ دعویٰ کرلے لیکن اس کے فیصلوں پر حکومت کا اثر ضرور دکھائی دے رہاہے۔ 1