فیس بک کے زکر برگ کی جانب سے کپل مشرا کو ”تشدد بھڑکانہ“ کا ذمہ دار ٹہرائے جانے کے باوجود دہلی پولیس خاموش ہے

,

   

ٹرمپ کو سنسر نہ کرنے کی وجہہ سے نشانہ پر رہے‘ مذکورہ فیس بک سی ای او نے فبروری میں مخالف سی اے اے احتجاجیوں کے خلاف دہلی بی جے پی کے قائدین کی راست دھمکیوں کا حوالہ دیا کیونکہ اس طرح کی تقریر پر مذکورہ سوشیل میڈیا کمپنی نے کاروائی کی تھی۔

نئی دہلی۔دہلی بی جے پی لیڈر کپل مشرا کے کے مخالف حکومت احتجاجیوں کے خلاف جاری کردہ دھمکیوں کے متعلق فیس بک کے سی ای او مارک زکر برگ کا حوالہ نفرت انگیز تقریر پر ایک مثال ہے

جس پر دہلی پولیس کی جانب سے نفرت پھیلانے والوں کے خلاف جس کا تعلق برسراقتدار پارٹی سے ہے کاروائی کرنے سے انکار کے موضوع پر دوبارہ بحث کو ہوا دینے کاکا م کرسکتا ہے‘ جو دہلی فسادات پر مشتمل جس میں 50لوگ فبروری کے مہینے میں اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔

زکر برگ جون2کے روز فیس بک کے ملازمین سے بات کررہی تھی جو سوشیل میڈیا پر بھڑکانے والی تشکیل کے متعلق تھی۔ حالانکہ انہوں نے راست طور پر مشرا کام نہیں لیاہے‘مگر انہوں نے جو حوالہ پیش کیاہے اس سے یہ ظاہر ہوگیا ہے کہ وہ کس کا حوالہ دے رہے ہیں۔

انہوں نے فیس بک کے ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے تشدد کے متعلق مواد اور منشاء پر تفصیلی بات کی اور ہانگ کانگ کے ایک سیاسی لیڈر کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں مذکورہ لیڈر نے پولیس کو آنے کو وہاں پر احتجا ج کررہے مظاہرین کو گولی مارنے کے لئے اکسایاتھا جس کو فیس بک نے ہذف بھی کردیا۔

ٹھیک اسی طرح زکر برگ نے کہاکہ ہندوستان میں بھی اس طرح کے معاملات پیش ائے اور مثال کے طور پر انہوں نے کہاکہ کہیں پر کسی نے کہاکہ”اگر مذکورہ پولیس کوئی کاروائی نہیں کرتی ہے تو‘ ہمارے حامی اس میں ملوث ہوں گے اور سڑکوں سے لوگوں کو ہٹانے کاکام کریں گے“۔

انہوں پرزور انداز میں مزید کہاکہ اس اپنے حامیوں کو اکسانے کا ایک طریقہ ہے تاکہ وہ راست طور پرآگئے ائیں اور ہمیں ان کو ہذف کرنا ہے‘ لہذا ہمارے پاس اس کی ایک مثال ہے“۔

امریکہ میں سیاہ فام کی ہلاکت کے پیش نظر بلیک لائیوز میٹرس کے عنوان پر منعقدہ احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات کی مبینہ وجہہ بننے والے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پوسٹس کو ہذف کرنا یا سنسر کرنے میں ناکامی کے پیش نظر فیس بک کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے پس منظر میں زکر برگ کی فیس بک ملازمین کے ساتھ اس میٹنگ کاانعقاد عمل میں آیاتھا۔

منی سیوڈا میں 25مئی کے روزمنیاپولیس کی تحویل میں جارج فلاؤڈ نامی ایک46سالہ سیاہ فام شخص کی موت ہوگئی تھی۔ اجلاس میں یہ بھی تبادلہ خیال ٹرمپ کے پوسٹ کو رہنے دیا جبکہ ٹوئٹر اور دیگر سائیڈس نے صدر کے پوسٹ کو انتباہ کے لیبل کے ساتھ رکھاتھا۔

اجلاس کے دوران زکر برگ نے وضاحت کی مختلف لوگوں سے گفتگو‘ مطالعہ اور تحقیق کے بعد ہی ان موضوعات پر بات کی ہے۔جہاں تک مشرا کے تبصرے کی بات کی ہے تو زکر برگ نے اپنے 25000فیس بک ملازمین کو اس بات کا پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ فیس بک واضح طور پر بھڑکاؤمعاملات پر کام کررہا ہے

۔یہ اس وقت کی بات ہے جب فبروری24-25کو ٹرمپ کے ہندوستان دورے کے موقع پر نارتھایسٹ دہلی میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے مشرا نے دہلی کو پولیس کو تین دن کا”وقت دیا“ تھا کہ وہ مخالف سی اے اے احتجاجیوں کو جو جعفر آباد میٹر و اسٹیشن کی روڈ پر احتجاجی دھرنا کررہے ہیں انہیں ہٹائیں۔

اس کے علاوہ مشرا نے ٹوئٹر پر بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہاتھا کہ”پولیس کو تین دن کی مہلت دی جاتی ہے کہ وہ سڑکوں کی صفائی کریں اور اس کے بعد ہمیں سمجھانے کی کوشش نہ کریں‘ ہم ان کی ایک بھی نہیں سنیں گے“۔

مشرا نے سوشیل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی جاری کیاتھا جس میں وہ کہتے رہے تھے کہ”ہم ٹرمپ کے ہندوستان میں دورے تک خامو ش رہیں گے۔ اس کے بعد اگر سڑکیں صاف نہیں ہوتی ہیں تو ہم پولیس کی بھی نہیں سنیں گے۔

ہم سڑکو ں پر اتر کر خود صفائی کریں گے“۔ مشرا نے ٹوئٹر کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں پر زوردیا کہ وہ ”ایک اور شاہین باغ بننے سے بچانے“ کے لئے اکٹھا ہوجائیں۔

مارچ کے مہینے میں دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس مرلی دھر نے دہلی پولیس کو ہدایت دی تھی کہ وہ مشرا کے خلاف اس کے ریمارکس پر ایف ائی آر کا فیصلہ کریں۔

مگر مقررہ تاریخ ختم ہونے سے قبل ان کا تبادلہ کردیاگیا اور ان کی جگہ پر آنے والی جج نے سالسیٹر جنرل کے اس دعوی کو تسلیم کرلیا ہے کہ ایف ائی آر کے لئے وقف موزوں نہیں ہے اس سے حالات خراب ہوسکتے ہیں۔

پھر اس کے بعد سے مذکورہ پولیس سی اے اے کے خلاف احتجاج سے وابستہ بے شمار لوگوں کی گرفتاری عمل میں لائی ہے‘ ان میں سے پانچ پر دہشت گردی کے دفعات لگائے ہیں مگر مشرا پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی ہے