نئے تعلیمی سال سے نیا نظام نافذ ہوگا۔ طالب علم کے بینک اکاؤنٹ میں فیس جمع ہوگی
حیدرآباد 6 جون (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے ریاست کے ایس سی ۔ ایس ٹی ۔ بی سی ۔ اقلیتی ۔ ای بی ایس اور معذورین طلبہ کے لئے اسکالرشپس اور ٹیوشن فیس کی ادائیگی کے طریقہ کار میں ایک بڑا انقلابی فیصلہ کیا ہے۔ نئے تعلیمی سال 2026-27 سے نافذ ہونے والے اس نئے نظام کے تحت اب فیس کی رقم کالجس کے بجائے براہ راست طلبہ کے ذاتی بینک کھاتوں میں جمع کی جائے گی۔ نئی پالیسی کے مطابق کالج کی جانب سے محکمہ بہبود کو طالب علم کی درخواست بھیجے جانے کے اندرون ایک ماہ ٹیوشن فیس اور اسکالرشپ طالب علم کے اکاؤنٹ میں منتقل کردی جائے گی۔ تاہم حکومت نے یہ لازمی شرط رکھی ہے کہ رقم اکاؤنٹ میں جمع ہونے کے ایک ہفتے کے اندر طالب علم کو یہ فیس کالج میں ادا کرنی ہوگی بصورت دیگر حکومت اس سے پوری فیس واپس وصول کرنے کی قانونی دفعات شامل کرچکی ہے۔ اس نئے نظام کے تحت شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے کچھ سخت شرائط بھی رکھی گئی ہیں۔ طلبہ کے دسویں جماعت (SSC) کے میمورنڈم اور آدھار کارڈ پر نام کا بالکل ایک جیسا ہونا ضروری ہے اور رقم صرف اسی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی جو آدھار کارڈ سے لنک ہوگا۔ اسکالرشپ اور فیس ریمبرسمنٹ کی اہلیت کے لئے تعلیمی سال کے دوران طلبہ کی کم از کم 70 فیصد حاضری کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ پہلے تعلیمی سال کے بل آئندہ مالیاتی سال ادا کئے جاتے تھے جس سے کالج اور طلبہ کو پریشانی ہوتی تھی لیکن اب تعلیمی سال کے اختتام تک تمام ادائیگیاں مکمل کرلی جائیں گی۔ اس کے لئے حکومت ہر ماہ 200 کروڑ روپئے کے فنڈس جاری کرے گی۔ حال ہی میں جاری کردہ جی او نمبر 7 کے علاوہ اس پورے طریقہ کار کو قانونی شکل دینے کے لئے ایک نیا جی او جاری کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ ایس سی ویلفیر ڈپارٹمنٹ جوکہ اس کا نوڈل محکمہ ہے، تمام فلاحی محکموں کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس طلب کرنے کے بعد یہ طریقہ کار وضع کیا ہے۔ ریاستی وزیر ایس سی بہبود اے لکشمن نے اس فائل کو منظوری دے دی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر اور چیف منسٹر کی حتمی منظوری کے بعد باقاعدہ احکامات جاری ہوں گے۔V/2