فیضانِ غوث اعظمؓ

   

عبدالسبحان خان
نام و نسب : آپؓ کا اسم گرامی عبدالقادر اور کنیت ابومحمد اور لقب محی الدین تھا۔ فرطِ عقیدت سے آپؓ کو متعدد القاب سے یاد کیا جاتا ہے جیسے قطب الاقطاب ، افضل الاولیاء ، پیرانِ پیر ، غوث الثقلین ، قطب ربانی ، محبوب حقانی ، غوث صمدانی ، محبوب سبحانی ، غوث الآعظم دستگیرؒ۔
تعلیم و تربیت : سلسلۂ تعلیم میں سب سے پہلے آپؓ نے قرآن مجید کو حفظ کیا ، پھر ادب ، فقہ حدیث کی باضابطہ تحصیل و تکمیل اپنے زمانے کے مشہور اساتذہ کاملین سے حاصل کیا۔ مسائل فقہہ میں مذہب حنبلی رکھتے تھے ۔ طریقۂ باطنی کی تعلیم شیخ حماد ، قاضی ابوسعید مبارک مخزومی اور شیخ یعقوب یوسف ہمدانی سے پائی ۔ پیر خرقہ قاضی ابوسعید مخزومی تھے نسبت ارادت براہ راست سرورِ عالم سے تھی انوار و فیوض کا نزول براہ راست حضور ﷺ سے ہوتا تھا ۔
علم و فضل : فضل و کمال کے لحاظ سے حضور غوث الثقلین ایک آفتاب علم تھے ۔ علوم و معارف کے سمندر تھے ۔ قرآن ، تفسیر ، حدیث ، فقہ ، ادب غرض کہ کوئی علم ایسا نہ تھا کہ جس میں آپؓ کو ید طولیٰ حاصل نہ ہو بالخصوص قرآن پاک کی تفسیر کے سلسلے میں آپؓ کو جو مہارت حاصل تھی وہ اپنی مثال آپؓ تھی ۔
قدرت کی بے شمار عنایتیں : اﷲ رب العزت نے حضور غوث الآعظم کو معرفت کے وہ تمام کمالات سے نواز دیا تھا اور روحانیت کے وہ تمام محاسن و نعمتیں بھی عطا کردی تھیں جس کی وجہ سے ان کی زندگی علم دین کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے اور منشائے قدرت کے مطابق عمل کرنے میں وقف ہوچکی تھی۔
عبادت و ریاضت : علوم دینیہ کی تکمیل اور علوم باطنیہ کی تحصیل کے بعد حضرت غوث الثقلینؓ نے عبادت و ریاضت اور مجاہدۂ نفس کی طرف خاص توجہہ دی ۔ چنانچہ شہر سے نکل کر عراق کے سنسان ویرانوں میں تنہائی کی زندگی گذارنے لگے ۔ حضرت شیخ شب و روز میں ایک ہزار نوافل پڑھتے تھے ۔ روزے بھی کثرت سے رکھا کرتے تھے ۔ چالیس سال تک عشاء کے وضو سے نماز فجر ادا کی ۔ پندرہ سال تک یہ معمول رہا کہ بعد عشاء پورا کلام مجید ختم فرماتے ۔ ریاضت و مجاہدہ کی عظیم منزلوں کو طئے کرنے کے بعد حضرت بغداد ہی میں قیام پذیر ہوئے ۔
سرچشمہ علم کا فیض : ۷ ؍ ربیع الاول ۵۱۱؁ھ کو حضرت شیخ نے پہلی تقریر کی جو درد و اثر میں ڈوبی ہوئی تھی ۔ چند روز میں آپؓ کے انداز بیاں کی شہرت اور چرچے دور دور تک پھیلنے لگے اور لوگ جوق در جوق آپؓ کی مجلس میں شریک ہونے لگے ۔ خلقت خدا کا اس قدر اژدھام ہونے لگا کہ مسجد بھی اس عظیم اجتماع کے لئے اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کرنے لگی ۔ لہذا شہر کے باہر عیدگاہ میں مجالیس اور اجتماعات منعقد کئے جانے لگے ۔ آپؓ کے وعظ میں اسی اسی ہزار کا مجمع بہ ایک وقت آنے لگا اور ان اجتماعات میں غیرمسلم بھی شریک ہوتے اور آپؓ کی پراثر تقریر پر جانثار ہوکر اسلام کے دائرہ میں چلے آتے ۔ حضرت کے خطبات میں بیش قیمت جواہرات اور اسرار و نکات ہوتے تھے جن سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے مختلف مقامات سے بکثرت علماء و فضلاء حاضر ہوتے اور علم کی تشنگی کو دور کرتے اس کے علاوہ اولیاء اﷲ ، صلحاء ، جنات و ملائکہ بھی آپؓ کی پراثر تقاریر اور آپؓ کے روح پرور خطابات کو سنتے۔ اس کے علاوہ اس محفل وعظ میں امراء و فقراء ، اہل سیف اور اہل قلم اور ہر طبقہ کے لوگ بکثرت شریک ہوتے اور اس قدر متاثر ہوتے کہ ان کے دل بے قرار ہوجاتے اور ان کے دلوں کی دھڑکنیں تیز تر ہوجاتیں۔ حضرت غوث الثقلین کی مجلس وعظ میں چار سو کاتب قلم و دوات لیکر بیٹھتے اور جو ان سے سنتے وہ تمام کا تمام لکھ لیا کرتے تھے ۔ طالبان علم شب و روز اس سرچشمہ علم سے مستفید ہوتے ۔ قرآن اور حدیث اور فقہہ کی تعلیم دی جاتی تھی اور اس کے لئے آپؓ نے ایک بہت بڑی درسگاہ قائم کی تھی ۔ اس درسگاہ سے بڑے بڑے اہل کمال سند وفضیلت حاصل کرتے بعض اہل علم تو آپؓ کو فقیہہ العراق کے نام سے یاد کرتے ۔ آپؓ کے پاس فتاوٰی کا سب سے قیمتی ذخیرہ موجود تھا۔ جو آپؓ کو تمام تر زبانی یاد تھا ۔ فضل و کمال کے لحاظ سے حضرت غوث الثقلین ایک آفتاب علم تھے ۔ طالبان علم و معرفت کو حضرت ان اعمال حسنہ کی خاص طورپر دعوت دیتے تھے جس کو وہ اپنی عملی زندگی میں ہمیشہ پابندی کے ساتھ کیا کرتے تھے ۔