فیض عام ٹرسٹ نے مستحق خاندان کو بے گھر ہونے سے بچالیا

   

کینسر مریض کا رہن رکھا مکان چھڑالیا ، جناب زاہد علی خاں کے ہاتھوں کاغذات کی حوالگی
جناب افتخار حسین کی اپیل پر 48 گھنٹوں میں 6,46,800 روپئے بطور عطیہ موصول

حیدرآباد ۔ 9 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : وہ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ بہت خوش تھے ۔ خوشحال زندگی گذار رہے تھے ۔ بیوی کی محبت بچوں کی مسکراہٹ ان کی زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں بکھر رہی تھیں ۔ غرض وہ اپنی بیوی بچوں میں مگن تھے ۔ تاہم ایک دن ایسا آیا کہ ڈاکٹروں نے ان میں منہ کے کینسر کی تشخیص کی اور اب وہ اس کینسر کے تیسرے اسٹیج یا مرحلہ میں داخل ہوچکے ہیں اور جس گھر میں مسکراہٹوں اور خوشیوں کا بسیرا تھا وہ گھر آج فکر و تشویش میں مبتلا دکھائی دیتا ہے ۔ قارئین ہم بات کررہے ہیں پی جے آر نگر خیریت آباد کے ساکن 36 سالہ محمد اسلم کی جو دو بیٹیوں اور دو بیٹوں کے باپ ہیں وہ رنگ کا کام کیا کرتے تھے ۔ ساتھ ہی کرکٹ بھی کھیلا کرتے تھے ۔ کرکٹ میں اسٹیٹ لیول پر پہنچ گئے تھے ۔ لیکن کینسر کی بیماری نے ان کے تمام خواب چکنا چور کردئیے ۔ موت و زیست کی کیفیت سے گذرنے والے محمد اسلم نے اپنا 40 گز پر محیط مکان پانچ لاکھ روپئے میں ایک غیر مسلم کے یہاں رہن رکھدیا اور اس رقم سے رینووا ہاسپٹل بنجارہ ہلز میں علاج کروایا تاہم کیمو تھراپی وغیرہ کے باوجود زیادہ افاقہ نہیں ہوا ۔ اس کے برعکس 5 لاکھ روپئے ختم ہوگئے ۔ فی الوقت ان کا علاج مہدی نواز جنگ کینسر ہاسپٹل میں چل رہا ہے ۔ محمد اسلم اور ان کی اہلیہ مدد کے لیے فیض عام ٹرسٹ کے سکریٹری جناب افتخار حسین سے رجوع ہوئے اور سب سے اچھی بات یہ رہی کہ جناب افتخار حسین کی فیض عام ٹرسٹ کے عطیہ دہندگان سے مدد کی اپیل کے اندرون 48 گھنٹے یعنی دو دن میں 6,46,800 روپئے کے گرانقدر عطیات حاصل ہوئے جس سے ان کے اخلاص کا اظہار ہوتا ہے ۔ ویسے بھی جو کام اللہ اور اللہ کے رسول ؐ کی خوشنودی کے لیے کیا جاتا ہے وہ ضرور کامیاب ہوتا ہے ۔ جناب افتخار حسین نے جس غیر مسلم کے پاس گھر رہن رکھا گیا تھا اس سے رجوع ہو کر رقم ادا کی اور وہ گھڑ چھڑالیا اور حسب روایت ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کے ہاتھوں محمد اسلم اور ان کی اہلیہ اور بچوں کو ان کے اپنے گھر کے کاغذات حوالے کردئیے گئے اس طرح ایک مستحق خاندان نہ صرف سود سے محفوظ ہوگیا بلکہ بے گھر ہونے سے بھی بچ گیا ۔ جناب افتخار حسین کے مطابق 4.5 لاکھ روپئے اس غیر مسلم کو دئیے گئے جس کے ہاں مکان رہن رکھا گیا تھا ۔ اس نے محمد اسلم کی حالت دیکھ کر 50 ہزار روپئے معاف کیے جو یقینا قابل تعریف ہے جب کہ 90,490 روپئے سے زیورات چھڑائے گئے اور 63000 روپئے کے ذریعہ قرض ادا کیا گیا ۔ اس طرح اب مابقی 43310 روپئے میں مزید رقم شامل کر کے محمد اسلم کے خاندان کے گذارے کے لیے کوئی کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ویسے بھی جناب افتخار حسین نے محمد اسلم کے چار بچوں محمد اسد طالب علم دسویں جماعت ، صنوبر ساتویں جماعت ، عائشہ جماعت اول اور محمد عاصم کی تعلیمی اخراجات کی ذمہ داری لینے کا اعلان کیا ۔ محمد اسلم اور ان کی اہلیہ آنکھوں میں آنسو لیے سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین ، ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور فیض عام ٹرسٹ کے عطیہ دہندگان کے حق میں دعا کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ ان تمام کو اجر عظیم عطا کرے ۔۔ m/b