ڈھاکہ / نئی دہلی : بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے ہندوستان کے چار روزہ دورے کے دوران اپنی زندگی کے چند اہم پہلوؤں پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے والد کے قاتلوں سے بچنے کے لیے فرضی شناخت کے ساتھ دہلی میں پناہ لیے ہوئے تھیں۔انڈین نیوز ایجنسی اے این آئی کو دیے گئے ایک جذباتی انٹرویو میں شیخ حسینہ نے سنہ 1975 کے درد انگیز واقعات کو دہراتے ہوئے کہا کہ 30 جولائی کو جب وہ اپنے والدین کو الوداع کہہ کر جرمنی کے لیے روانہ ہو رہی تھیں تو انہیں بالکل یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ آخری ملاقات ہو گی۔شیخ حسینہ واجد کے شوہر اس وقت جرمنی میں نیوکلییئر سائنسدان تھے جبکہ وہ شادی کے بعد اپنے والدین کے گھر میں تین بہن بھائیوں کے ہمراہ رہ رہی تھیں۔’میرے تمام بہن بھائی ان کے شریک حیات، میرے والد اور والدہ سب مجھے ایئر پورٹ پر چھوڑنے آئے۔ میں اپنے ماں باپ سے بھی ملی، لیکن حقیقت میں یہ ان سے ملاقات کا آخری دن تھا۔‘اس ملاقات کے دو ہفتے بعد ہی 15 اگست کی صبح شیخ حسینہ کو خوفناک خبر ملی کہ ان کے والد کا قتل ہو گیا ہے۔لیکن یہ خبر صرف والد کی ہلاکت تک ہی محدود نہ تھی بلکہ فیملی کے مزید افراد کو بھی قتل کیا گیا تھا۔‘یہ انتہائی ناقابل یقین تھا۔ ناقابل یقین کہ کوئی بھی بنگالی ایسا کر سکتا ہے۔ اور ہمیں ابھی تک معلوم نہیں ہے کہ اصل میں کیا ہوا تھا۔‘عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ نے بھری ہوئی آنکھوں سے بتایا ’فوجی بغاوت ہوئی اور پھر ہم نے سنا کہ میرے والد کو قتل کر دیا گیا ہے۔ لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ فیملی کے تمام افراد کو بھی قتل کیا گیا ہے۔