جسم کو نقصان پہنچانے والی چیزوں سے پرہیز کرنا ہوگا، خواتین لباس اور مرد نظروں کا خیال رکھیں، شراب اور جوا شیطان کے کام
ممبئی : قرآن نے زندگی کا مقصد تلاش کرنے کاپیغام دیاہے ،اس خیال کا اظہار قرآن مجید کے مراٹھی ترجمہ کے اجراء کے موقع پر کیاگیا۔ڈاکٹر اقبال منے مزید کہاکہ یہ کتاب، جو حضرت آدم اور حوا کے زمانے سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک متعدد انبیاء کے ذکر سے پُر تصنیف ہے ، جوکہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری نسل انسانی کے لیے نازل کی گئی ہے ۔ممبئی کے پڑوسی شہر نئی ممبئی کے پنویل میں نسیمہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام جیشٹھا سٹیزن ہال میں اے کے شیخ کے قرآن کے مراٹھی ترجمہ ‘الٰہی قرآن’ کی رسم اجراء کے موقع پر انہوں نے مزید کہاکہ قرآن نے زندگی کا مقصد تلاش کرنے کا پیغام دیا ہے ۔ جبکہ چھترپتی شاہو مہاراج نے قرآن کا سب سے پہلے ترجمہ کیا۔اقبال نے کہاکہ قرآن کاپیغام ہے کہ جسم کو نقصان پہنچانے والی چیزوں سے پرہیز کریں،شراب، جوا شیطان کا کام ہے ، اس سے دور رہیں، خواتین کو پورے جسم کا لباس پہننا چاہیے اور مردوں کو نظرنیچی رکھنا چاہئیے ۔ اس موقع پر دوردرشن کے پروگرامرجاوید شیخ نے اپنی تقریر میں کہاکہ صحیفے ان کی اپنی زبان میں پڑھے تو سب سے بہتر سمجھے جاتے ہیں۔ قرآن خدا کی کتاب ہے ۔ اے کے شیخ صاحب نے اس کا درست اور آسانی سے ترجمہ کیا ہے ۔جوکہ قابل رشک کام ہے ۔ کے ایم ایس پی پنویل برانچ کے صدر روہیداس پوٹے نے ایک ترجمہ اور موافقت کے درمیان فرق کو واضح کیا۔ اے کے شیخ صاحب نے قرآن پر بہترین کام کیاہے ۔انہوں نے ترجمہ آسان زبان میں کیا ہے ،جسے ہر کوئی سمجھ سکتا ہے ۔ غزل نواز بھیم راؤ پنچالے نے کہاکہ “اے کے شیخ ایک اچھے شاعر بھی ہیں، غریبوں کے دکھ جانتے ہیں، انہوں نے مراٹھی ادب میں غزل کو مالا مال کیا ہے ۔”تمام مقررین کے بیانات کا جائزہ لیتے ہوئے پنویل میونسپلٹی کے سابق میئر سعید ملا نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ تمام مذاہب کا حتمی اصول انسانیت کی فلاح ہے ۔مذکورہ مقررین کے ساتھ مہمان خصوصی قیوم مولانا، محمد جاوید شیخ اور محمد اسلم خان ،صحافی جاوید جمال الدین ،اردواکیڈمی کے سپرٹینڈنٹ شعیب ہاشمی اور جاویدندیم بھی تشریف فرما تھے ۔جبکہ مقررین نے قرآن مجید کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کیں۔ پروگرام کی نظامت سمیر شیخ نے کی۔ آغازمیں فاطمہ شیخ نے خوبصورت آواز میں ‘الفاتحہ’ کی تلاوت کی اور ثانیہ شیخ نے فاتحہ کامراٹھی ترجمہ پیش کیااوراے کے شیخ نے تعارف میں قرآن پاک کے ترجمہ کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں حاضرین کو آگاہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ مقدس کتاب ہے ۔
انہوں نے یہ نظم اپنی سریلی آواز میں پیش کی۔’شبدانوے ‘پبلشنگ ہاؤس کے پربھاکر پوار، کتاب ’دیویہ قرآن‘کے پبلشر کو اعزاز سے نوازا گیا۔