قرآن

   

اور یاد کرو جب فرمایا تمہارے رب نے فرشتوں سے میں مقرر کرنے والا ہوں زمین میں ایک نائب ، کہنے لگے کیا تو مقرر کرتا زمین میں جو فساد برپا کرے گا اس میں اور خونریزیاں کرے گا حالانکہ ہم تیری تسبیح کرتے ہیں تیری حمد کے ساتھ اور پاکی بیان کرتے ہیں تیرے لئے ،فرمایا بےشک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ (سورۃ البقرہ ۔۳۰)
اس رکوع میں ایک اور عظیم الشان احسان کا ذکر ہے ۔ یہ ہے حضرت انسان کی پیدائش کا تذکرہ۔ خالق کائنات نے جس اہتمام سے اس پیکر خاکی کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے اس اہتمام سے کسی دوسری مخلوق کا ذکر نہیں فرمایا۔ اس مقام پر رب مضاف ہے ک ضمیر کی طرف جس کا مرجع ذات پاک مصطفیٰ (ﷺ) ہے۔ اس اضاف میں جو لطف ہے اس کا صحیح ادراک صرف اہل محبت وعرفان کا خاصہ ہے۔
علامہ الوسی فرماتے ہیں : حضور کریم (ﷺ)کی ذات مقدس ہی حقیقت میں خلیفۂ اعظم ہے۔ اور یہ ذات گرامی نہ ہوتی تو آدم ہی پیدا نہ ہوتے بلکہ کچھ بھی نہ ہوتا۔(روح المعانی) اس کا واحد ملک ہے۔ اس کا ماخذ اشتقاق اَلُوْکَۃٌ ہے ۔ جس کا معنی ہے ’’پیغام رسانی ‘‘ کیونکہ فرشتے اللہ تعالیٰ کا پیغام اس کے مقبول بندوں تک پہنچانے کے لئے مامور ہیں۔ اس لئے اُنہیں اس نام سے موسوم کیا گیا۔
ملائکہ کی حقیقت کیا ہے ؟ اس میں اتنے مختلف اقوال ہیں کہ ان کا احاطہ یہاں آسان نہیں۔ علماء اسلام کے نزدیک ان کی حقیقت یہ ہے۔ یہ وہ لطیف اور نورانی جسم ہیں جو مختلف شکلیں بدل سکتے ہیں اور ان کو اُن کی اصل شکل میں صرف اولیاء کاملین ہی دیکھ سکتے ہیں۔ …جاری ہے