اور یاد کرو جب فرمایا تمہارے رب نے فرشتوں سے میں مقرر کرنے والا ہوں زمین میں ایک نائب کہنے لگے کیا تو مقرر کرتا زمین میں جو فساد برپا کرے گا اس میں اور خونریزیاں کرے گا حالانکہ ہم تیری تسبیح کرتے ہیں تیری حمد کے ساتھ اور پاکی بیان کرتے ہیں تیرے لئے فرمایا بےشک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ (سورۃ البقرہ ۔۳۰)
گزشتہ سے پیوستہ …اور ہونا بھی یونہی چاہئے۔ کیونکہ مختلف اشیاء کا شعور وادراک ایک ہی قوت سے نہیں ہوتا۔ بلکہ مختلف قوتیں مختلف چیزوں کا شعور وادراک کرتی ہیں۔ رنگت کا ادراک آنکھ سے اور حرارت کا چھونے سے ہوتا ہے۔ نابینا اگر سُرخ وسفید کو نہ سمجھ سکے تو وہ معذور ضرور ہے لیکن اُسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ سُرخ وسفید کا انکار ہی کر دے۔ اسی طرح ملائکہ جن کا تعلق عالم روح سے ہے اگر ظاہری حواس اُنہیں نہ پا سکیں تو وہ معذور ہیں۔ اور وہ آنکھ جو عالم روح کے اسرار ولطائف کو دیکھ سکتی ہے۔ وہ تو اس وقت روشن ہوتی ہے۔ جب ریاضت اور مجاہدات سے تزکیۂ نفس ہو اور دل کا آئینہ چمکنے لگے ۔ جو لوگ ساری عمر لذات وخواہشات کے درپے رہتے ہیں ۔ جنہوں نے تزکیہ نفس کی اہمیت کا کبھی احساس نہیں کیا۔ وہ اگر اس نورانی اور لطیف مخلوق کو نہ دیکھ سکیں تو معذور ہیں۔ لیکن اُنہیں کسی طرح یہ زیبا نہیں کہ وہ ان نفوس قدسیہ کے مشاہدات کا انکار کریں جن کی چشم دل بیدار بھی ہے اور بینا بھی۔ اس لئے جن لوگوں نے فرشتوں کے وجود کا انکار کیا ہے۔ اور مختلف دُور ازکار اور رکیک تاویلیں کی ہیں ان کا انکار بھی علمی نہیں اور ان کی یہ تاویلیں بھی کسی ستائش کی مستحق نہیں۔