قرآن

   

اور یاد کرو جب فرمایا تمہارے رب نے فرشتوں سے میں مقرر کرنے والا ہوں زمین میں ایک نائب کہنے لگے کیا تو مقرر کرتا زمین میں جو فساد برپا کرے گا اس میں اور خونریزیاں کرے گا حالانکہ ہم تیری تسبیح کرتے ہیں تیری حمد کے ساتھ اور پاکی بیان کرتے ہیں تیرے لئے فرمایا بےشک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ (سورۃ البقرہ ۔۳۰)
یہاں فرشتوں سے نہ مشورہ لیا جا رہا ہے اور نہ اذن طلب کیا جا رہا ہے بلکہ رب العزت اپنے ارادہ عالیہ سے انہیں آگاہ فرما رہا ہے۔ یہاں دو چیزیں غور طلب ہیں۔ (۱) خلیفہ کسے کہتے ہیں؟ (۲) انسان کو منصب خلافت کیوں تفویض کیا گیا؟ خلیفہ وہ ہے جو کسی کے ملک میں اس کے نائب کی حیثیت سے اس کے احکام کے مطابق عمل کرائے۔ اس منصب کے لئے انسان کے انتخاب کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ انسان کے علاوہ جتنی مخلوق ہے اس کی استعداد ، علم اور اس کا دائرہ عمل محدود ہے۔ اور جس کی محدودیت کا یہ عالم ہو وہ اس ذات پاک کا خلیفہ نہیں بن سکتا جس کا علم، ارادہ، احکام اور تصرف غیر محدود ہے۔ لیکن انسان جو ابتداء میں ضعیف بھی ہے اور جہول بھی اس میں وہ پایاں نا پذیر استعداد رکھ دی گئی ہے۔ اور عقل وفہم کی وہ قوتیں ودیعت فرمادی گئی ہیں جن کے تصرفات کی حد نہیں ۔ اس لئے جملہ مخلوقات سے صرف یہی ایک مخلوق ہے جو منصب خلافت کی اہلیت رکھتی ہے۔ علماء ربانیین نے اس مشت خاک میں پنہاں توانائیوں سے جیسے پردہ اُٹھایا ہے اس کی گرد راہ کو بھی نفسیات انسانی کے ماہرین نہیں پہنچ سکے۔ …جاری ہے