اور جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور (داخل) ہوگیا وہ کفار (کے ٹولہ) میں۔ (سورۃ البقرہ ۔۳۴)
جب فرشتوں نے آدم علیہ السلام کی وسعت علم اور اپنے عجز کا اعتراف کر لیا تو پروردگار عالم نے اُنہیں حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ سجدہ کا لغوی معنی ہے تذلل اور خضوع اور شریعت میں اس کا معنی ہے پیشانی کا زمین پر رکھنا۔ بعض علماء کے نزدیک یہاں سجدہ کا لغوی معنی مُراد ہے۔ کہ فرشتوں کو ادب واحترام کرنے کا حکم دیا گیا۔ لیکن جمہور علماء کے نزدیک شرعی معنی مُراد ہے ۔ یعنی فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ آدم علیہ السلام کے سامنے پیشانی رکھ دیں۔ اب اس سجدہ کی دو صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ پیشانی جھکانے والا یہ اعتقاد کرے کہ جس کے سامنے میں پیشانی جھکا رہا ہوں وہ خدا ہے تو یہ عبادت ہے اور یہ خاص ہے اسی وحدہٗ لا شریک کے ساتھ جو خالق ومالک ہے ساری کائنات کا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کبھی بھی کسی نبی کی شریعت میں جائز نہیں۔ بلکہ انبیاء کی بعثت کا مقصد اولین تھا ہی یہی کہ وہ انسانوں کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور دوسروں کی عبادت سے منع کریں۔ تو یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ جس چیز سے روکنے کے لئے انبیاء تشریف لائے اس فعل کا ارتکاب خود کریں یا کسی کو اجازت دیں۔ …جاری ہے