قرآن

   

اور ہم نے فرمایا اے آدم رہو تم اور تمہاری بیوی اس جنت میں اور دونوں کھائو اس سے جتنا چاہو جہاں سے چاہو اور مت نزدیک جانا اس درخت کے ورنہ ہو جائوگے اپنا حق تلف کرنے والوں سے پھر پھسلادیا انہیں شیطان نے اس درخت کے باعث اور نکلوادیا ان دونوں کو وہاں سے جہاں وہ تھے اور ہم نے فرمایا اترجائو تم اس سے دوسرے کے دشمن رہو گے اور (اب) تمہارا زمین میں ٹھکانا ہے اور فائدہ اٹھانا ہے وقت مقرر تک۔ (سورۃ البقرہ ۔۳۵؍ ۳۶)
مالکی حنفی اور شافعی مسلک کے جمہور فقہا کا یہ مذہب ہے کہ انبیاء جس طرح کبیرہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں اسی طرح صغیرہ گناہوں سے بھی پاک ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں ان کی مطلق اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر ان سے گناہ کا ارتکاب ہوسکے تو ان کے گناہوں کی اطاعت بھی لازم آئے گی جس سے ہدایت کاسارا انتظام درہم برہم ہوجائے گا۔ یہاں فرمایا ہے۔ فازلہما میں بلا ارادہ پائوں کا پھسل جانا ۔ جب تک عزم و ارادہ مفقود ہو اس فعل کو گناہ نہیں کہا جاسکتا۔ دوسری آیت میں یہ لطیف اشارہ بھی ہے کہ اس دنیا میں تمہارا قیام ہمیشہ نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ تمہاری عارضی قیام گاہ ہے ان فرصت کے لمحوں میں تمہیں اپنی ابدی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں رہنا چاہئے۔ …جاری ہے