قرآن

   

اور جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اُس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور (داخل) ہوگیا وہ کفار (کے ٹولہ) میں۔ (سورۃ البقرہ ۔۳۴)
گزشتہ سے پیوستہ … وہ دن کب طلوع ہوگا جب مومن اپنے مقام کو پہچانے گا۔ پھر کب اس آسودۂ خواب راحت کو رُومی کا سوز اور رازی کا پیچ وتاب نصیب ہوگا۔ ہمارے مطالعہ کی میز پر تو تہ در تہ گرد جمی ہوئی ہے اور ہمارے عشرت کدوں میں نورو نکہت کا سیلاب اُمڈا چلا آرہا ہے۔ ہماری رصد گاہیں اب ان تھک تیز نگاہوں سے محروم ہیں جو ستاروں کی معمولی سی جنبش کا تعاقب کیا کرتی تھیں۔ ہماری تجربہ گاہیں اب ایسے علماء کو ترس گئی ہیں جو دنیا کی لذات سے کنارہ کش ہو کر نشتر تحقیق سے کائنات کی ہر چیز کا دل چیرا کرتے اور ان میں پوشیدہ اثرات اور قوتوں کا کھوج لگایا کرتے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر قابل حیرت بلکہ لائق نفرت وہ آواز ہے جو بعض حلقوں سے توحید کے نام پر اُٹھائی جا رہی ہے کہ نبی کو تشریعی علم دیا جاتا ہے تکوینی علم سے اسے کیا سروکار۔ اور اس طرح اس ذات اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) کے علم کی بیکراں وسعتوں کو تنگ کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا سارا زور صرف کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم فرما وے ہمارے حال زار پر اور بخشے ہماری کوتاہ اندیشیوں کو۔ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْـمُ۔