اور یاد کرو جب لیا اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے پختہ وعدہ کہ قسم ہے تمھیں اس کی جو دوں میں تم کو کتاب اور حکمت سے پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول جو تصدیق کرنے والا ہو ان (کتابوں) کی جو تمہارے پاس ہیں تم ضرور ضرور ایمان لانا اُس پر اور ضرور ضرور مدد کرنا اُن کی (اس کے بعد) فرمایا کیا تم نے اقرار کرلیا اور اُٹھا لیا تم نے اس پر میرا بھاری ذمہ؟ سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا (اللہ) نے فرمایا تو گواہ رہنا اور میں (بھی) تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔ (آل عمران :۸۱)
حضرت سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک نبی سے یہ پختہ وعدہ لیا کہ اگر ان کی موجودگی میں سرور عالم وعالمیاں محمد رسول اللہ (ﷺ) تشریف فرما ہوں تو اس نبی پر لازم ہے کہ وہ حضور (ﷺ) کی رسالت پر ایمان لا کر آپ کی اُمت میں شمولیت کا شرف حاصل کرے اور ہر طرح حضور ؐکے دین کی تائید ونصرت کرے اور تمام انبیاءنے یہی عہد اپنی اپنی امتوں سے لیا۔ السید المحقق محمود الالوسی صاحب روح المعانی تحریر فرماتے ہیں’’اسی لئے عارفین نے فرمایا کہ نبی مطلق رسول حقیقی اور مستقل شریعت کے لانے والے حضور نبی کریم محمد ؐہیں اور جملہ دیگر انبیا حضور علیہ السلام کے تابع ہیں (روح المعانی) ۔ شب معراج تمام انبیاء کرام کا بیت المقدس میں مجتمع ہو کر حضور فخر کائنات کی امامت میں حضور (ﷺ) کی شریعت کے مطابق نماز ادا کرنا اسی بلند مرتبت عہد کی عملی توثیق تھی۔ اور امام الانبیاء والمرسلین کی عظمت شان اور جلالت قدر کا صحیح اندازہ قیامت کے روز ہوگا جب ساری مخلوق خدا خوف خدا سے لرزہ براندام ہو گی اور مصطفی علیہ التحیۃ والثناء لواء حمد ہاتھ میں لئے مقام محمود پر فائز ہوں گے۔