قرآن

   

بیشک اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اُس نبی مکرم پر اے ایمان والو! تم بھی آپؐ پر درود بھیجا کرو اور (بڑے ادب و محبت سے) سلام عرض کیا کرو۔ (سورۃ الاحزاب : ۵۶) 
امام ترمذی اپنی سنن میں نقل کرتے ہیں: ایک روز حضور (ﷺ)  تشریف فرما تھے۔ ایک آدمی آیا اس نے نماز پڑھی اور دعا مانگی یا اللہ مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما۔ حضور (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: اے نمازی تو نے بڑی جلد بازی سے کام لیا ہے۔ جب نماز پڑھ چکو تو بیٹھو، اللہ کی حمد وثنا کرو اور مجھ پر درود پڑھو، پھر دعا مانگو۔ پھر دوسرا آدمی آیا اس نے نماز پڑھی اور اللہ کی حمد وثنا کی پھر حضور (ﷺ) پر درود پڑھا۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : ’’ اے نمازی اب دعا مانگ قبول ہو گی ‘‘۔ اس سے ثابت ہوا کہ ہم اہل سنت نماز کے بعد جو ذکر اور درود شریف پڑھتے ہیں۔ یہ سنت ہے اور قبولیت دعا کا باعث ہے۔ نیز اس سے بآواز بلند ذکر اور درود شریف پڑھنا ثابت ہوا ۔ (ترمذی ، ابو داود)۔ جب حضور نبی کریم (ﷺ) کا اسم مبارک لیا جائے تو درود شریف پڑھے۔ جب نام گرامی لکھے تو ساتھ درود پاک لکھے۔ حضرت سفیان بن عینیہ ؓ فرماتے ہیں کہ خلف نے بیان کیا کہ ان کا ایک دوست حدیث کا طالب علم تھا۔ وہ فوت ہو گیا۔ میں نے اُسے خواب میں دیکھا کہ سبز پوشاک پہنے خوش وخرم گھوم رہا ہے۔ میں نے کہا کہ تم تو وہی میرے ہم مکتب نہیں ہو؟ اُس نے کہا میں وہی ہوں۔ …جاری ہے