قرآن

   

پھر پھسلادیا اُنھیں شیطان نے اس درخت کے باعث اور نکلوادیا ان دونوں کو وہاں سے جہاں وہ تھے اور ہم نے فرمایا اُتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن رہوگے اور (اب) تمہارا زمین میں ٹھکانہ ہے اور فائدہ اُٹھانا ہے وقت ِمقرر تک۔ (سورۃ البقرہ ۔۳۶)
گزشتہ سے پیوستہ … اِس شبہ کے ازالہ کے لئے ایک چیز کو ہمیشہ ذہن نشین رکھنا چاہئے۔ وہ یہ کہ کوئی فعل گناہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ کسی حکم کی نافرمانی کا عزم اور قصد پایا جائے اور اگر عزم اور قصد مفقود ہے بلکہ بےارادہ بھول چوک سے کوئی ایسا فعل سر زد ہو جائے جو بظاہر کسی حکم کے خلاف ہے تو اسے گناہ نہیں کہتے۔ اور ایسے اُمور کا صدور عصمتِ انبیاء کے منافی نہیں۔ اب آپ اسی ایک واقعہ پر غور کریں۔ قرآن حکیم کی تعبیر میں اس مسئلہ کی نزاکت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ یہاں فرمایا ہے۔ فَاَزَلَّهُمَا ۔ اب آپ ’’زلۃ ‘‘ کی لغوی تحقیق پر غور کیجئے۔ الزلۃ فی الاصل استرسال الرجل من غیر قصد : بلا ارادہ پاؤں کا پھسل جانا۔ دوسرے مقام پر قرآن نے بالکل اس حقیقت کو واضح الفاظ میں بیان فرمادیا :آدم سے یہ حرکت بھول سے ہوئی اس کا عزم وارادہ ہر گز نہ تھا۔ جب تک عزم وارادہ مفقود ہو اس فعل کو گناہ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن ’’بُود آدم دیدۂ نورِ قدیم …مُوئے در دیدہ بود کوہِ عظیم (رُومیؒ)یعنی ’’آدم علیہ السلام تو نور قدیم کی آنکھ تھے۔ اور آنکھ میں اگر ایک بال بھی گر جائے تو آنکھ کی نزاکت اس کو برداشت نہیں کر سکتی بلکہ وہ ہلکا سا بال یہاں پہاڑ سے بھی بوجھل محسوس ہونے لگتا ہے‘‘۔اس آیت میں یہ لطیف اشارہ بھی ہے کہ اس دنیا میں تمہارا قیام ہمیشہ نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ تمہاری عارضی قیام گاہ ہے ۔ ان فرصت کے لمحوں میں تمہیں اپنی ابدی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے کوشاں رہنا چاہئے۔