دوطرفہ مذاکرات میں توانائی کے شعبے اور سرمایہ کاری پر بھی زیادہ توجہ مرکوز
نئی دہلی۔ 5 اکتوبر (آئی اے این ایس) خلیج کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک، جن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، ہندوستان میں آئل ریفائنری منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اسی دوران نئی دہلی قطر سے بھی ریفائننگ شعبے میں مزید سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گلف ٹائمز میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق یہ کوشش ہندوستان کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت ملک کی مجموعی تیل صاف کرنے کی صلاحیت کو موجودہ 5.4 ملین بیرل یومیہ سے بڑھا کر 6.2 ملین بیرل یومیہ سے زیادہ کیا جانا ہے، تاکہ ملک میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جاسکے۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان توانائی کے وسیع تر شعبے میں ادارہ جاتی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے قطر کے ساتھ سفارتی روابط بھی مزید مضبوط کر رہا ہے۔ اپریل میں قطر کے دارالحکومت دوحہ کے 2 روزہ سرکاری دورے کے دوران ہندوستان کے وزیر پٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے قطرکے وزیر مملکت برائے توانائی امور سعد شریدہ الکعبی سے ملاقات کی تھی۔ الکعبی قطر انرجی کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر بھی ہیں۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور سمندری سپلائی چین کے تحفظ سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سرکاری قطر نیوز ایجنسی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی عالمی سطح پر ایندھن کی فراہمی میں استحکام برقرار رکھنے اور علاقائی کشیدگی یا بحران کے دوران سمندری تجارت کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ قطر میں ہندوستانی سفارت خانے کی ویب سائٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات طویل مدتی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) معاہدوں پر مبنی رہے ہیں، تاہم اب دوطرفہ مذاکرات میں توانائی کے شعبے کے پروسیسنگ اثاثوں میں ایک دوسرے کی جانب سے حصص کی سرمایہ کاری پر بھی زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔