لاء اینڈ آرڈر پر بی آر ایس سے سیکھنے کی ضرورت نہیں

   

بی آر ایس دراصل بی آر ایس ایس، ریونت ریڈی کی دہلی میں تقریب میں شرکت

حیدرآباد۔/15 جنوری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس دراصل بی آر ایس ایس ہے اور وہ آر ایس ایس کے نظریات پر قائم ہے۔ نئی دہلی میں کانگریس پارٹی کے نئے ہیڈکوارٹر کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس در اصل آر ایس ایس کے نظریات کو فروغ دے رہی ہے۔ بی جے پی کی جانب سے کانگریس کے خلاف جو الزامات عائد کئے جاتے ہیں وہی الزامات تلنگانہ میں بی آر ایس دہرا رہی ہے۔ بی آر ایس کے دفاتر پر حملوں کے واقعات سے متعلق اخباری نمائندوں کے سوال پر چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہاکہ حکومت کو امن و ضبط کی برقراری کے سلسلہ میں بی آر ایس سے سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تلنگانہ میں قانون اپنا کام کررہا ہے اور حکومت نے پولیس کو امن و ضبط کی برقراری کے سلسلہ میں مکمل اختیارات دیئے ہیں۔ حملہ یا اور کوئی بھی واقعہ پیش آئے تو پولیس کی جانب سے کارروائی کی جارہی ہے۔ امن و ضبط کی برقراری کے معاملہ میں پولیس کے امور میں کوئی مداخلت نہیں کی جاتی اور پولیس نے کئی واقعات کے سلسلہ میں کریمنل کیسس درج کئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق بی آر ایس دور حکومت میں پولیس کی مدد سے کانگریس دفاتر پر حملے کئے گئے لیکن کانگریس دور حکومت میں ایسا نہیں ہورہا ہے۔ اگر کہیں بھی غلطی ہوتی ہے تو حکومت اس کی اصلاح کرنے کیلئے تیار ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ امن و ضبط کی برقراری کے مسئلہ پر کانگریس کو بی آر ایس سے سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اچھی طرح سے جانتی ہے کہ لاء اینڈ آرڈر کو کس طرح برقرار رکھا جائے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ لاء اینڈ آرڈر کی برقراری حکومت کی اولین ترجیح ہے اور بی آر ایس کے الزامات پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔ میڈیا کی جانب سے حالیہ دنوں میں سیاسی پارٹیوں کے دفاتر پر حملہ کے واقعات کے بارے میں پوچھے جانے پر ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں کہیں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے اور حکومت لاء اینڈ آرڈرکی برقراری کو اولین ترجیح دیتی ہے۔1