غلطی سے چینی سرحد میں داخل ہونے پر زیر حراست‘ پروٹوکول کے مطابق کاروائی جاری
نئی دہلی: چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اروناچل پردیش سے لاپتہ نوجوان کو ڈھونڈ لیا ہے اور مناسب کارروائی کی جا رہی ہے۔ آسام کے تیج پور میں واقع وزارت دفاع کے تعلقات عامہ کے افسر (پی آر او) لیفٹیننٹ کرنل ہرش وردھن پانڈے نے اتوار کو میڈیا کو یہ اطلاع دی۔ لیفٹیننٹ کرنل پانڈے نے بتایا کہ ’’نوجوان چینی سرحد میں داخل ہوا کیونکہ علاقے میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کی کوئی سرکاری دیوار یا حد بندی نہیں ہے، صرف جنگل ہے۔ اس وجہ سے پی ایل اے نے اسے حراست میں لے لیا اور کاغذی کارروائی طے شدہ پروٹوکول کے مطابق کی جا رہی ہے۔لاپتہ نوجوان میرام ٹارون کی واپسی سے قبل ہونے والی رسمی کارروائیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جب چین کی طرف سے کوئی ہندوستان کی طرف آتا ہے تو ہندوستانی فوج بھی یہی طریقہ اختیار کرتی ہے۔ اس سے قبل چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیان ڑاؤ نے بیجنگ میں ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ وہ صورتحال سے واقف نہیں ہیں۔ چینی پی ایل اے قانون کے مطابق سرحدوں کو کنٹرول کرتا ہے اور غیر قانونی داخلے اور خارجی سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتا ہے۔دریں اثنا، بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ تاپیر گاؤ نے دعویٰ کیا تھا کہ نوجوان کو پی ایل اے نے اروناچل پردیش کے اپر سیانگ ضلع میں ہندوستانی علاقے لنگٹا جور سے اغوا کیا تھا اور اس کے ٹھکانے کا علم نہیں ہے۔ ہندوستانی فوج نے ہاٹ لائن کے ذریعے چینی پی ایل اے سے رابطہ کیا تھا اور اس کی طرف سے نوجوان کا پتہ لگانے اور اسے قائم شدہ پروٹوکول کے مطابق واپس کرنے میں اس سے مدد مانگی تھی۔ تاپیر گاؤ نے بتایا کہ ایک اور نوجوان جانی یونگ پی ایل اے کے چنگل سے فرار ہو گیا اور حکام کو اطلاع دی۔ انہوں نے حکومت سے ان کی جلد رہائی کے لیے پہل کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے چیف سکریٹری نریش کمار اور ضلع انتظامیہ کو بھی اس مسئلہ سے آگاہ کیا ہے۔ایم پی نے دعویٰ کیا کہ وہ جگہ وہی ہے جہاں چین نے 2018 میں ہندوستان کے اندر تین سے چار کلومیٹر سڑک بنائی تھی۔ ستمبر2020 میں چینی پی ایل اے نے اروناچل کی سرحد سے پانچ نوجوانوں کو ہندوستان کے حوالے کیا، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ ان کی سرحد میں پائے گئے تھے۔ اروناچل پردیش کی چین کے ساتھ 1,080 کلومیٹر کی سرحد لگتی ہے۔