ریستوران ، تھیٹرس اور شادی خانوں کے بند ہونے کا کاروبار پر منفی اثر
حیدرآباد۔ بوتل بند مشروبات کی کمپنیوں کو لاک ڈاؤن کے دوران شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ پیپسی کو نامی کمپنی نے گذشتہ تین ماہ کے دوران ہونے والے نقصان کے سلسلہ میں بتایا کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن کے سبب انہیں معاشی بحران کی صورتحال کا سامنا ہے لیکن لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد کئی ممالک میں کچھ حد تک بہتری ریکارڈ کی گئی ہے اور کہا جار ہاہے کہ ہندستان میں یہ بہتری ریکارڈ نہیں کی گئی بلکہ معاشی بحران کی صورتحال کے سبب پیپسی کو کے تمام پراڈکٹس کی فروخت متاثر ہوئی ہے۔ پیپسی کو کی جانب سے تیار کئے جانے والے پراڈکٹس میں نہ صرف بوتل بند مشروبات شامل ہیںبلکہ اس کمپنی کی جانب سے اسنیکس بھی تیار کئے جاتے ہیں ۔ دنیا بھر میں پیپسی کو کے پراڈکٹس کی فروخت پر ہونے والے اثرات کے سلسلہ میں بتایا جاتا ہے کہ ریستوراں اور تھیٹرس کے مکمل بندہونے کے سبب فروخت پر بھاری اثرپڑا ہے اور اس کے علاوہ بازار میں جو اسٹاک موجود تھا وہ بھی ناکارہ ہوچکا ہے جو کہ کمپنی کیلئے بڑا نقصان ہے۔ہندستان میں بوتل بند مشروبات کی فروخت کے سلسلہ میں ابتداء سے ہی طلب خلیجی ممالک مقابلہ میں کافی کم رہی ہے لیکن اب جبکہ لاک ڈاؤن کے سبب ریستوراں اور تھیٹرس مکمل طور پر بند ہیں تو اس کے منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں ۔ کمپنی کو ہونے والے ان نقصانات کے سلسلہ میں کمپنی کے ماہرین کا کہناہے کہ وہ ان کی پابجائی کی حکمت عملی بھی اسی وقت تیار کرسکیں گے جب حالات معمول پر آئیں گے اور کمپنی کے پراڈکٹس عوام کی دسترس میں ہوں گے۔ لاک ڈاؤن کے سبب پیدا ہونے والے معاشی بحران کے باعث عوام کا رجحان بوتل بند مشروبات اور دیگر اسنیکس کی جانب نہیں ہے اور عوام کی بڑی تعداد ان اشیاء سے احتیاط بھی کررہی ہے۔اسی لئے کمپنیوں کو دو ہندسوں کے اعداد میں نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ ہندستان میں نقصانات دو ہندسوں تک پہنچ جانے کے سبب کمپنی کے ذمہ داروں میں تشویش پائی جانے لگی ہے جبکہ خلیجی ممالک میں نقصانات کا فیصداب بھی ایک ہندسہ میں ریکارڈ کیا جارہا ہے بلکہ جنوبی افریقی ممالک میں بھی نقصانات کا فیصد ایک ہندسہ میں ریکارڈ کیا جانے لگا ہے جو کہ کمپنی کے لئے حوصلہ افزاء قرار دیا جارہاہے لیکن ہندستان میں جو صورتحال ہے اس کے متعلق کمپنی کے ذمہ داروں میں تشویش پائی جانے لگی ہے اور کہا جارہا ہے کہ معاشی بہتری کے ساتھ ہی حالات معمول پر آئیں گے بصورت دیگر نقصانات میں اضافہ ہی ریکارڈ کیا جائے گا۔