لوک سبھا انتخابات کیلئے کانگریس کا منشور عوام سے تجاویز لے کر تیار کیا جائے گا

   

عوامی خواہشات و توقعات کو ترجیح دی جائے گی ۔ کئی اہم مسائل کا احاطہ ہوگا ۔ رکن منشور کمیٹی عمران پرتاپ گڑھی کا انٹرویو
حیدرآباد 27 ڈسمبر(سیاست نیوز) کانگریس 2024 عام انتخابات کیلئے منشور دیوان خانہ یا دفاتر کے اجلاسوں میں تیار نہیں کرے گی بلکہ سماج کے تمام طبقات سے ملاقات کرکے ان کی تجاویز وصول کرنے کے بعد قطعی منشور کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی۔ آل انڈیا کانگریس کی منشور کمیٹی کا پہلا اجلاس آئندہ ہفتہ منعقد ہوگا اور اس اجلاس میں طئے کیا جائے گا کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے سلسلہ میں منشور کی تیاری کے مراحل کس طرح سے طئے کئے جائیں۔ صدرنشین اقلیتی ڈپارٹمنٹ کل ہند کانگریس کمیٹی و رکن راجیہ سبھا جناب عمران پرتاپ گڑھی نے خصوصی بات چیت میں یہ بات کہی اور بتایا کہ وہ پہلے اجلاس میں عوام اور مختلف طبقات کے ذمہ داروں سے ملاقات کے ذریعہ منشور کیلئے تجاویز طلب کرنے کی رائے رکھیں گے اور انہیں امید ہے کہ ان کی رائے کو کنوینر کمیٹی پی چدمبرم اور دیگر سینئیر قائدین قبول کریں گے۔ عمران پرتاپ گڑھی نے پارٹی اعلیٰ کمان سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ انہیں 16 سینیئر ارکان پر مشتمل کمیٹی میں مسلم چہرہ کے طور پر جگہ فراہم کی گئی اور ان کے کندھوں پر بڑی ذمہ داری عائد کی گئی ہے ۔انہو ںنے بتایا کہ وہ عوام کے درمیان رہنے والے سیاستداں ہیں اور اپنی سیاسی زندگی سے قبل و عوامی زندگی کا حصہ رہے ہیں اسی لئے وہ عوام کی نبض جانتے ہیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ 2024 انتخابات کا منشور عوامی منشور ہوگا جو عوام کی خواہش کے مطابق ان کا احترام کرتے ہوئے تیار کیا جائے گا۔ عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ منشور کمیٹی میں اقلیتوں کے نمائندہ کے طور پر وہ واحد فرد ہیں جو نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر اقلیتی طبقات سکھ ‘ عیسائی ‘ بودھ ‘ جین سماج کے مسائل سے بھی آگہی حاصل کرکے ان کے حل کی منصوبہ بندی کے منشور ساز کمیٹی میں رکھیں گے۔ رکن راجیہ سبھا نے بتایا کہ ملک میں جو نفرت کا ماحول پیدا کیا گیا اور جس طرح سے بے روزگاری ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے ان امور کو بھی منشور میں شامل کیا جائے گا۔ عمران پرتاپ گڑھی نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سالانہ 2کروڑ ملازمتوں کا وعدہ کیا تھا اور اس اعتبار سے اب 20کروڑ ملازمتوں کی فراہمی زیر التواء ہے اس مسئلہ کو بھی منشور میں شامل کرکے نوجوانوں کے مسائل کو حل کرنے اقدامات کئے جائیں گے ۔ انہو ںنے ناانصافیوں اور مظالم کے علاوہ نفرتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس ان نفرتوں کے خاتمہ کیلئے مسلسل سماجی مساوات کی بات کرتی آئی ہے اور راہول گاندھی و پرینکا گاندھی سماجی انصاف کی ہی بات کر رہے ہیں اور 28 ڈسمبر کو پارٹی کے 138 ویں یوم تاسیس کا نظریہ بھی یہی ہے’ہم ہیں تیار‘بدعنوانیوں کے خلاف ‘ بیروزگاروں کے ساتھ ‘ نفرتوں کے خلاف ہم تیار ہیں کے نظریہ کے ساتھ یہ مہم شروع کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ 28 ڈسمبر کے بعد ملک بھر میں کانگریس مہم شروع کرے گی ۔ انہوں نے کانگریس انتخابی منشور کیلئے عوامی تجاویز کی وصولی کے متعلق بتایا کہ پہلے اجلاس کے بعد کانگریس کی جانب سے ای۔میل ‘ واٹس ایپ اور دیگر رابطہ کی تفصیلات فراہم کی جائیں گی تاکہ عوام اپنی رائے منشور ساز کمیٹی کو روانہ کرسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی نیک نیتی کے ساتھ ملک کی سیاست میں تبدیلی کیلئے کوشاں ہے اور اس کوشش کو عوامی تائید حاصل ہونی ہی چاہئے ۔ انہوں نے تلنگانہ عوام سے کانگریس کی حمایت اور تشکیل حکومت میں اپنا کردار ادا کرنے اور پارٹی پر اعتماد کرکے اقتدار حوالہ کرنے پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ ہمارے اپنوں کی سازشی سیاست کے نتیجہ میں تلنگانہ کابینہ میں کوئی مسلم چہرہ نہیں ہے لیکن بہت جلد تلنگانہ کابینہ میں مسلم چہرہ کو شامل کیا جائیگا۔ انہو ںنے بتایا کہ اگر مسلم امیدواروں کو شکست سے دوچار کرنے کی سازش نہ ہوتی تو چیف منسٹر ریونت ریڈی کے ساتھ ہی 7 ڈسمبر کو مسلم کابینی وزیر کی حلف برداری ہوگئی ہوتی۔ عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ ملک کو نفرت کی سیاست سے پاک کرنے کانگریس سڑک سے سنسد تک جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اور اس ملک میں ہر طبقہ کو انصاف کی فراہمی تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ منشور ساز کمیٹی ملک کی مختلف ریاستو ں اور شہروں میں نمائندہ اداروں کے ذمہ داروں سے ملاقات کرتے ہوئے ان کی رائے حاصل کرنے پر بھی غور کرے گی تاکہ عوام کی نبض کو سمجھا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ملک میں اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اور قانون ان کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہونے لگا ہے یا قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں قانون پر عمل نہیں کرپا رہی ہیں اسی لئے اس مسئلہ کو منشور سازی کے دوران خصوصی اہمیت حاصل رہے گی۔3