ایک سال میں جملہ 250 مشینیں تقسیم کی گئیں۔ جلد مزید 150 مشینوں کی تقسیم ۔ تقریب سے جناب عامر علی خاں‘ ٹی ہریش راؤ فاروق حسین اور علی مسقطی کا خطاب
جھلکیاں
l ایک سال میں زائد از 250 مزدوروں میں مشینوں کی تقسیم
l ایک وقت کا ریستوراں میں کھانے پر ہونے والے خرچ میں ایک مزدور کو مشین دلوائی جاسکتی ہے۔
l مشین حاصل کرنے والے مزدوروں کی آمدنی ایک سال میں دوگنی ہوگئی۔
l معاشی طور پر انتہائی پسماندہ اس طبقہ کے مسائل کو اب تک کسی نے محسوس ہی نہیں کیا تھا۔
l مشکلات و مصائب میں زندگی گذارنا ‘ ہم اپنا مقدر تصور کربیٹھے تھے :مز دور
l شہری زندگی میں رہتے ہوئے مسلم مسائل پر گفتگو کرنا آسان ہے:عامر علی خان
l سیاسی مقاصد و مفادات سے اوپر اٹھ کر عامر علی خان پسماندہ طبقات کی مدد کر رہے ہیں:ٹی ہریش راؤ
l 100 مشین میں اپنی جیب سے دلواؤں گا تاکہ ان مزدوروں کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے اور وہ بہتر زندگی گذاریں: علی مسقطی
l ان طبقات کی مدد کے ذریعہ مجموعی طور پر اقلیتوں اور مسلمانوں کو ترقی فراہم کرنے کے اقدامات اور حکومت کو متوجہ کروایا جاسکتا ہے: فاروق حسین
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن میں’ لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کا حکم دیتے ہیں‘۔امت مسلمہ کے متمول افراد سخت مشکل حالات میں زندگی گذارنے والوں کیلئے آسانیاں پیدا کرکے اس حکم کی اتباع کرنے والوں میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ 4دوست جب ریستوراں میں کھانا کھاتے ہیں یا گھومنے کہیں جاتے ہیں تو جو رقم خرچ ہوتی ہے بلکہ کسی اچھے ریستوراں میں کھانے کے بعد 4دوستوں کا جو بل ادا کیا جاتا ہے اتنی رقم کسی کی محنت مزدوری کو آسان کرکے اس کے خاندان کو ایک سال کی پرورش کا سامان مہیا کرسکتے ہیں۔ جی ہاں! خوشحال خاندانوں کے 4دوست جو خرچ کرتے ہیں اتنی رقم میں ’ترکا کاشا‘ (مسلم پتھر توڑنے والے ) ایک شخص کو ایک سال تک آرام سے محنت کی سہولت فراہم کرنے پتھر توڑنے اور کاٹنے کی مشین فراہم کی جاسکتی ہے۔
حیدرآباد 7 جون(سیاست نیوز) اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن میں’ لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کا حکم دیتے ہیں‘۔امت مسلمہ کے متمول افراد سخت مشکل حالات میں زندگی گذارنے والوں کیلئے آسانیاں پیدا کرکے اس حکم کی اتباع کرنے والوں میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ 4دوست جب ریستوراں میں کھانا کھاتے ہیں یا گھومنے کہیں جاتے ہیں تو جو رقم خرچ ہوتی ہے بلکہ کسی اچھے ریستوراں میں کھانے کے بعد 4دوستوں کا جو بل ادا کیا جاتا ہے اتنی رقم کسی کی محنت مزدوری کو آسان کرکے اس کے خاندان کو ایک سال کی پرورش کا سامان مہیا کرسکتے ہیں۔ جی ہاں! خوشحال خاندانوں کے 4دوست جو خرچ کرتے ہیں اتنی رقم میں ’ترکا کاشا‘ (مسلم پتھر توڑنے والے ) ایک شخص کو ایک سال تک آرام سے محنت کی سہولت فراہم کرنے پتھر توڑنے اور کاٹنے کی مشین فراہم کی جاسکتی ہے۔ تلنگانہ میں بی سی (ای) طبقہ سے تعلق رکھنے والے 46ہزار نفوس پر مشتمل اس مسلم آبادی کو اگر ان کی محنت میں آسانی پیدا کرنے والی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں تو ان محنت کش خاندانوں کی آمدنی میں اضافہ کے ساتھ ان میں شراب کی لعنت کو دور کرنے کے علاوہ انہیں حادثات سے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ ’ترکا کاشا ‘ طبقہ کے مزدور پیشہ طبقہ میں ’پتھر توڑنے اور کاٹنے ‘ کی مشینوں کی ’سیاست‘ کے ذریعہ تقسیم کیلئے منعقدہ تقریب میں سابق وزیر و رکن اسمبلی سدی پیٹ مسٹر ٹی ہریش راؤ ‘ جناب علی مسقطی ‘ جناب عام علی خان نیوز ایڈیٹر سیاست ‘ جناب محمد فاروق حسین سابق رکن کونسل و دیگر نے شرکت کی ۔ اس تقریب کے دوران ’ترکا کاشا’ طبقہ کے 50 مزدوروں میں مشینوں کی تقسیم عمل میں لائی گئی اور آئندہ دنوں میں مزید 150 مشینوں کی تقسیم کا اعلان کیا گیا جن میں جناب علی مسقطی نے اپنی جانب سے 100 مشینوں کی فراہمی اور جناب ٹی ہریش راؤ نے اپنی جانب سے 50 مشینوں کی فراہمی کا اعلان کیا ۔ جناب عامر علی خان کی نگرانی میں ’ترکا کاشا‘ طبقہ کے مزدورجو پتھر پھوڑ تے اپنی مزدوری حاصل کرتے ہیں انہیں عصری سہولت کے ذریعہ پتھر توڑنے اور اسے کاٹنے کی مشینوں کی فراہمی کے اقدامات کی سراہنا کرتے ہوئے جناب ہریش راؤ نے کہا کہ ’ادارۂ سیاست ‘ کی خدمات سے وہ واقف ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جناب عامر علی خان اپنے والدزاہد علی خان اور بانیٔ روزنامہ سیاست کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سماج کے غریب ترین طبقات کے مسائل کو حل کرنے کی جدجہد میں مصروف ہیں۔ سابق وزیر نے کہا کہ جناب عامر علی خان بغیر کسی سیاسی مفاد کے اس طبقہ کے لوگوں کوسہولت فراہم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں جن کی تعداد ریاست بھر میں محض 46 ہزار ہے ۔ جناب ہریش راؤ نے ’ترکا کاشا‘ طبقہ کیلئے حکومت کے اعلانا ت پر عمل ان کیلئے 5کروڑ کی تخصیص کے باوجود عدم اجرائی کو متعلقہ محکمہ جات اور عہدیداروں سے رجوع کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ مستقبل میں بی آر ایس کے اقتدار کی صورت میں ’ترکا کاشا‘ کیلئے 50 کروڑ کا خصوصی بجٹ مختص کیا جائیگا تاکہ اس طبقہ کی تعلیمی ‘ معاشی ‘ سماجی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔ جناب علی بن ابراہیم مسقطی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اپنی جانب سے ’ترکا کاشا‘ طبقہ کے مزدوروں کو سہولت پہنچانے مشینوں کی تقسیم سے کافی متاثر ہوئے ہیں اور 100 مشینیں جلد ہی اس طبقہ سے تعلق رکھنے والے مزدوروں میں تقسیم کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ جناب عامر علی خان جو کام کر رہے ہیں وہ حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن ادارۂ سیاست سماج کے ہر طبقہ کی ترقی اور ان مسائل کے حل کیلئے مسلسل کام کرتا رہا ہے ۔ انہو ںنے سیاسی جماعتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کا تذکرہ کرکے جناب ہریش راؤ سے خواہش کی کہ وہ بی آر ایس کے ذریعہ اقلیتوں کی ترقی کو یقینی بنانے کے اقدامات کریں تاکہ تلنگانہ کے اضلاع بالخصوص دیہی علاقوں میں مقیم پسماندہ مسلم طبقات کی خوشحالی کیلئے اقدامات کئے جاسکیں۔ جناب عامر علی خان نیوز روزنامہ سیاست نے اپنے خطاب میںکہا کہ جس وقت وہ رکن قانون ساز کونسل بنائے گئے تھے اس وقت پہلی مرتبہ ’ترکا کاشا‘ طبقہ کے نمائندوں سے ان سے ملاقات کرکے انہیں درپیش مسائل سے واقف کروایا تھا ‘ اسی وقت انہوں نے رکن کونسل کی حیثیت سے اس طبقہ کے تمام مسائل سے آگہی حاصل کرکے انہیں حل کروانے کا منصوبہ تیار کیا تھا اور اس پر عمل آوری شروع کردی تھی اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے بتایا کہ پتھر توڑنے اور کاٹنے کی مزدوری کرنے والے یہ ’مسلمان‘ دراصل سخت محنت اور کم آمدنی کے نتیجہ میں برائیوں میں مبتلاء ہوچکے تھے اسی لئے انہوں نے اس طبقہ کے معاشی ‘ سخت محنت اور تعلیمی مسائل کو حل کرنے منصوبہ تیار کیا اور اسی منصوبہ کے تحت ابتدائی طور پر انہیں پتھر توڑنے اور کاٹنے کی مزدوری میں ہونے والی محنت کو کم کرنے مشینوں کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ان کی آمدنی میں
اضافہ کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ تاحال 250 مزدوروں میں مشینوں کی تقسیم عمل میں لائی جاچکی ہے اور اس کے مثبت نتائج برآمد ہونے لگے ہیں۔ اسی لئے اس مہم میں مزید تیزی لاتے ہوئے زیادہ مزدوروں کو مشینوں کی فراہمی کے اقدامات جاری ہیں۔جناب محمد فاروق حسین سابق رکن کونسل نے بتایا کہ ’ترکا کاشا‘ یعنی پتھر توڑنے اور کاٹنے والے مزدور جو کہ مسلمان ہیں وہ سخت محنت کے سبب انہیں ہونے والی تھکان کو دور کرنے شراب نوشی کرنے لگتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ مشینوں کے ذریعہ پتھر کی کٹائی اور توڑنے سہولت کی صورت میں ان میں تھکان کم ہوگی اور وہ دن میں جتنا کام کیا کرتے تھے اس سے کافی زیادہ کام کرسکتے ہیں ۔اس کے ذریعہ انہیں شراب کی لعنت سے دور کیا جاسکتا ہے ۔ جناب عامر علی خان نے بتایا کہ سال گذشتہ سے جاری اس مہم کے جو نتائج برآمد ہوئے ہیںان میں یہ بات ثابت ہوئی کہ جن کے پاس مشین ہے وہ ہاتھ سے پتھر توڑنے اور کاٹنے والوں سے دوگنی مزدوری پانے میں کامیاب ہورہے ہیں اور وہ حادثات سے بھی محفوظ ہیں۔ جناب محمد فاروق حسین نے اس طبقہ کے افراد کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مسائل کی نشاندہی کرکے انہیں حل کرنے تجاویز کے ساتھ عوامی نمائندوں سے رجوع کریں تاکہ ان کی مؤثر سماعت اور حل کے اقدامات کئے جاسکیں۔ 3