لیبیامیں مظاہرین کاسیاسی جماعتوں کیخلاف احتجاج

   

پارلیمنٹ کی عمارت میں گھس گئے‘ خود ساختہ حکومت تحلیل کرنے کئی مقامات پر مظاہرے
طرابلس:لیبیا کے مشرقی شہرطبرق میں مظاہرین نے سیاسی جماعتوں کے خلاف احتجاج کیا ہے اور وہ جمعہ کی رات پارلیمان کی عمارت میں گھس گئے۔انھوں نے لیبیا کی متحارب سیاسی جماعتوں کے خلاف اپنے غم وغصے کا اظہارکیا،نعرے بازی کی اور عمارت کے سامنے آگ لگا دی۔عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ پارلیمنٹ کی حفاظت پر مامور سیکورٹی فورسز اپنے فرائض منصبی سے دست کش ہوگئی تھیں اور انھوں نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔لیبیا کی نئی حکومت کی ناکامی پر جمعہ کے روزدارالحکومت طرابلس اور طبرق کے علاوہ مشرقی شہروں بن غازی اوربعض دوسرے شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے ہیں۔یادرہے کہ لیبیامیں2011ء میں نیٹوکی حمایت یافتہ بغاوت کے بعد سے بدامنی جاری ہے۔اس بغاوت کے نتیجے میں مطلق العنان صدرمعمرالقذافی کی حکومت ختم ہوگئی تھی مگراس کے بعد سے لیبیاانتشارکا شکارہے۔2014ء میں شورش زدہ ملک عملاً مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا اوردومتوازی حکومتیں چھے سال تک بروئے کاررہی تھیں۔2020ء میں ملک میں جاری سیاسی تقسیم کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی میں مفاہمتی عمل شروع ہوا تھا۔تاہم دسمبرمیں طے شدہ انتخابات روکنے کے بعد طبرق میں قائم پارلیمان نے قراردیا تھا کہ وزیراعظم عبدالحمیدالدبیبہ کی عبوری اتحادی حکومت کی مدت ختم ہوچکی ہے اور اس نے فتحی باشآغا کوان کی جگہ عبوری وزیراعظم مقررکیا تھا۔نگراں وزیراعظم عبدالحمید کی حکومت کو اقوام متحدہ اور عالمی برادری تسلیم کرتی ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق جمعہ کو احتجاجی مظاہرین طبرق کی پارلیمنٹ میں داخل ہوئے تو عمارت خالی تھی۔ملک کے مختلف شہروں میں بدترین حالات زندگی اور خود ساختہ حکومت کو تحلیل کرنے کے لیے مظاہرے ہو رہے ہیں۔