لے آؤٹ کے بغیر اراضیات کی فروخت، سیاستدانوں کا اہم رول

,

   

اراضی کو باقاعدہ بنانے میں عوام کو مشکلات، مسلم آبادی والے علاقوں میں غیر مجاز لے آؤٹ کی کثرت

حیدرآباد: حکومت نے غیر مجاز لے آؤٹ کے تحت موجود اراضیات کو باقاعدہ بنانے کی اسکیم کا اعلان کیا ہے جس کے تحت نہ صرف مکمل لے آؤٹ بلکہ انفرادی پلاٹس کو باقاعدہ بنانے کی سہولت حاصل رہے گی۔ حکومت کی اس اسکیم کے تحت روزانہ بڑی تعداد میں درخواستیں داخل کی جارہی ہے لیکن شہری علاقوں خاص طور پر حیدرآباد میں متوسط طبقات کیلئے یہ اسکیم بھاری بوجھ ثابت ہوسکتی ہے۔ شہر اور خاص طور پر ایسے علاقے جہاں پر مسلم قابل لحاظ آبادی ہے ، وہاں زیادہ تر لے آؤٹ حکومت کے غیر منظورہ ہیں اور لے آؤٹ مالکین کے تیقن پر عوام نے اپنی محنت کی کمائی کے ذریعہ اراضی حاصل کی ہے۔ حکومت کی اسکیم سے عدم استفادہ کی صورت میں اراضی مالکین کو مستقبل میں کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ اسکیم کے تحت اراضی کو اگر باقاعدہ نہیں بنایا گیا تو اراضی کا رجسٹریشن نہیں ہوگا اور تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ اس کے علاوہ برقی اور پانی کا کنکشن حاصل نہیں ہوگا۔ ایسے غیر منظورہ لے آؤٹس میں پلاٹ حاصل کرنے والے افراد کی مشکلات میں اضافہ ہوچکا ہے کیونکہ انہیں اراضی کو باقاعدہ بنانے کیلئے بھاری رقم چکانی پڑے گی ۔ کئی علاقوں میں سیاستدانوں کی جانب سے پلاٹنگ کی گئی اور حکومت سے لے آؤٹ کی منظوری کے بغیر عوام کو بھروسہ دلاکر اراضی فروخت کردی گئی ۔ اب جبکہ غیر مجاز لے آؤٹس کو حکومت نے سہولتوں سے محروم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پلاٹ مالکین اراضی کی مالیت کے سلسلہ میں پریشان ہیں۔ لے آؤٹ کی عدم منظوری کے سبب پلاٹ کی قیمت گھٹ جائے گی اور اگر وہ باقاعدہ بنانا چاہیں تو انہیں اراضی کی مقامی مالیت کے اعتبار سے چالان کی رقم ادا کرنی ہوگی۔ ایسے لے آؤٹ مالکین جنہوں نے پلاٹ اونرس کو بھروسہ دلایا تھا، اب وہ خود کو تنازعہ سے دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ جس لے آؤٹ کے تحت پلاٹ خریدا گیا ، اس کے مالک کو باقاعدہ بنانے کی فیس ادا کرنا چاہئے لیکن یہاں تو سارا بوجھ خریدنے والے شخص پر عائد کیا جارہا ہے۔ اسکیم کی آخری تاریخ 15 اکتوبر ہے ، ایسے میں ہزاروں مسلم خاندان اپنی اراضیات کے تحفظ کو لے کر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لے آؤٹ کی عدم منظوری کے باوجود دھوکہ سے اراضیات کو فروخت کردیا گیا کیونکہ ان معاملات میں سیاستدانوں کی حصہ داری رہتی ہے۔ پرانے شہر میں کئی ایسے وینچرس موجود ہیں جنہیں حکومت سے لے آؤٹس کی منظوری نہیں ہے،

اس کے باوجود بڑے پیمانہ پر اشتہاری مہم کے ذریعہ پلاٹس کو فروخت کیا جارہا ہے۔ اب جبکہ حکومت نے اسکیم کا اعلان کیا ، لہذا عوام کو چاہئے کہ وہ اراضی کی خریدی کے سلسلہ میں چوکس رہیں اور صرف ایسے پلاٹس کو خریدیں جن کا لے آؤٹ حکومت سے منظورہ ہے۔ کئی مقامات پر پریشان حال خاندانوں میں کم قیمت پر پلاٹس کی فروخت کا پیشکش کیا ہے کیونکہ وہ ریگولرائیز کرانے کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔ غریب اور متوسط طبقات کے لئے حکومت کی یہ اسکیم کسی راحت کے بجائے مزید زحمت کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسے حالات کیلئے ذمہ دار وہ سیاستداں اور وینچر مالکین ہیں جو لے آؤٹ کی منظوری کے بغیر ہی پلاٹنگ اور فروخت کا کاروبار کر رہے ہیں۔ اسکیم کے تحت عوام آن لائین درخواستیں داخل کرسکتے ہیں۔ مکمل لے آؤٹ کو باقاعدہ بنانے کیلئے درخواست کے ساتھ 10,000 روپئے اور انفرادی پلاٹ کیلئے 1,000 روپئے جمع کرنے ہوں گے ۔ آن لائین درخواستوں کے ساتھ ضروری دستاویزات کو اسکیان کرتے ہوئے اپ لوڈ کرنا ہوگا۔ شہری اور دیہی علاقوں میں اسکیم پر عمل آوری کا آغاز ہوا ہے۔ اراضی کی مقامی سرکاری مالیت کے اعتبار سے ریگولرائیزیشن چارجس رہیں گے۔ حکومت نے ایل آر ایس اسکیم میں غریبوں کیلئے فیس میں کسی بھی رعایت سے انکار کردیا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی میں اعلان کیا کہ ایل آر ایس اسکیم جاری کردہ قواعد کے مطابق برقرار رہے گی جبکہ بلڈنگ ریگولیشن اسکیم کا معاملہ ہائی کورٹ میں زیر دوران ہے۔