مئیر کا کمشنر بلدیہ کو مکتوب ، جی ایچ ایم سی سے عمل آوری نہ کرنے کا فیصلہ
حیدرآباد۔ مئیر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو شہر یوں کو سربراہ کی جانے والی برقی سربراہی میں ہونے والی کٹوتی سے زیادہ اپنے مکان میں برقی منقطع ہونے کی فکر لاحق ہے ۔ موسم گرما کے آغازکے ساتھ ہی حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی علاقو ںمیں برقی سربراہی منقطع ہونے کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں اور ملک کے سرکردہ شہروں میں شامل شہر حیدرآباد میں برقی سربراہی مسدود ہونے کی توثیق خود مئیر جی ایچ ایم سی مسز وجیہ لکشمی نے کرتے ہوئے کمشنر بلدیہ مسٹر لوکیش کمار کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے مئیر کے کیمپ آفس واقع بنجارہ ہلز میں برقی سربراہی میں خلل کی شکایات کو دور کرنے کیلئے فوری 25KV کے جنریٹر کی تنصیب کی ہدایت دی ۔ بلدیہ کے عملہ کو تنخواہوں کی عدم اجرائی ‘ ترقیاتی کاموں کے لئے فنڈس کی عدم موجودگی ‘حصول جائیداد کے لئے ادائیگیوں کے نہ ہونے کے سبب پریشان حال بلدیہ کی مئیر بننے کے اندرون ایک ماہ مئیر کی یہ دوسری ایسی خواہش ہے جسے جی ایچ ایم سی کی جانب سے پورا کیا جانا محال ہے۔ مئیر بننے کے بعد مسز وجیہ لکشمی نے نئی گاڑیوں کا انتظام کرنے کی ہدایت جاری کی تھی جسے کمشنر بلدیہ نے واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے پاس بجٹ نہیں ہے اسی لئے وہ نئی گاڑیوں کا انتظام نہیں کرپائیں گے۔ اب مسز وجیہ لکشمی نے کمشنر جی ایچ ایم سی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس بات کی شکایت کی کہ ان کے کیمپ آفس یعنی مکان پر برقی سربراہی میں پیدا ہونے والے خلل کی شکایات کو دور کرنے کیلئے جی ایچ ایم سی کی جانب سے فوری 25KV کے جنریٹر کی تنصیب کے اقدامات کئے جائیں جبکہ مئیر کو اپنے مکان سے زیادہ شہر حیدرآباد کے شہریوں کی فکر ہونی چاہئے اور انہیں اس مسئلہ کو محکمہ برقی کے عہدیداروں کے آگے پیش کرتے ہوئے شہر حیدرآباد میں برقی خلل کو دور کرنے کے اقدامات کے سلسلہ میں نمائندگی کرنی چاہئے لیکن مئیر نے شہر حیدرآباد کے شہریوں کو درپیش برقی سربراہی میں خلل اور وولٹیج میں اتار چڑھاؤ کے مسئلہ پر توجہ دینے کے بجائے پہلے اپنے گھر کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے بلدیہ پر مالی بوجھ عائد کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ذرائع کے مطابق جی ایچ ایم سی عہدیداروں نے ان کی اس ہدایت کو نہ ماننے کا فیصلہ کرلیا ہے۔