مارکو روبیو کی ایشیائی شراکت دارو ں سے ملاقات، چین کو وارننگ

   

واشنگٹن : امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو اپنے پہلے دن چار ملکی اتحاد جاپان، انڈیا اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر ایشیا میں جابرانہ اقدامات کے خلاف خبردار کیا ہے، جو چین کی جانب سے سمندر میں کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے ایک بلواسطہ لیکن واضح تنبیہ ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے ایک دن بعد چار ملکی اتحاد ’کواڈ‘ کے وزرائے خارجہ کے ساتھ واشنگٹن میں ملاقات کی، جنہوں نے چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف سخت اقدامات لینے کے عزم کا اظہار کیا۔ایک مشترکہ بیان میں مارکو روبیو اور ان کے ہم منصبوں نے کہا کہ وہ ایک ایسے خطے کی حمایت کرتے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھا جاتا ہے اور اس کا دفاع کیا جاتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم کسی بھی یکطرفہ اقدامات کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں جو طاقت یا جبر کے ذریعے موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔وزرائے خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اس سال ہندوستان میں طے شدہ کواڈ سربراہی اجلاس کو منعقد کرنے کے لیے کام کریں گے۔ جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ نئی دہلی کا دورہ کریں گے۔ جس کو واشنگٹن میں چین کے خلاف ایک مضبوط اتحادی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں ہندو قوم پرست وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک مضبوط تعلق قائم کیا جس نے ان کے اعزاز میں کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک بڑا جلسہ منعقد کیا تھا۔حال ہی میں چین اور فلپائن کے درمیان علاقائی تنازعات پر کشیدگی رہی، جو ایک امریکی اتحادی ہے۔مارکو روبیو نے تائیوان پر چین کے ممکنہ حملے کو روکنے کے عزم کا اظہار کیا، جو ایک خودمختار جمہوریت ہے اور جسے چین اپنا حصہ مانتا ہے۔