ماویسٹ مسئلہ پر امن بات چیت کمیٹی کی چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات

   

جنگ بندی کیلئے مرکز کو راضی کرنے کی اپیل، انکاؤنٹرس کے بڑھتے واقعات پر اظہار تشویش
حیدرآباد۔/27 اپریل، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج امن بات چیت کمیٹی کے عہدیداروں سے ملاقات کی۔ پیس ٹالکس کمیٹی کے ارکان نے جوبلی ہلز میں واقع چیف منسٹر کی قیامگاہ پر ملاقات کی اور پڑوسی ریاست چھتیس گڑھ میں ماویسٹوں کے خلاف پولیس کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے چیف منسٹر سے اپیل کی کہ وہ مرکزی حکومت اور ماویسٹوں کے درمیان امن بات چیت کی مساعی کریں۔ انہوں نے چیف منسٹر سے درخواست کی کہ مرکز کو جنگ بندی ( سیز فائر ) کیلئے راضی کریں تاکہ انکاؤنٹر کے واقعات کا تدارک ہو۔ کمیٹی کے کنوینر جسٹس چندرا کمار، پروفیسر ہرگوپال، پروفیسر انور خاں، دُرگا پرساد، جمپنا، روی چندر نے چیف منسٹر کو یادداشت پیش کی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کمیٹی کے ارکان سے کہا کہ ان کی حکومت نکسلزم کو سماجی نظریہ سے دیکھتی ہے اور اسے لاء اینڈ آرڈر مسئلہ نہیں سمجھتی۔ چیف منسٹر نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت سینئر لیڈر کے جانا ریڈی سے مشورہ کرتے ہوئے تجاویز حاصل کرے گی جو سابق میں ماویسٹوں سے مذاکرات کرچکے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ نکسل مسئلہ پر جانا ریڈی سے مشاورت کرتے ہوئے کوئی حکمت عملی طئے کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ ریاستی کابینہ عنقریب اس مسئلہ کا جائزہ لیتے ہوئے کوئی فیصلہ کرے گی۔ واضح رہے کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران چھتیس گڑھ میں ماویسٹوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں میں اضافہ ہوچکا ہے اور انکاؤنٹر میں سرکردہ ماویسٹ قائدین کے بشمول بھاری تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ماویسٹوں کی جانب سے حکومت کو مذاکرات کی کھلی پیشکش کی گئی باوجود اس کے پولیس اور سیکوریٹی فورسیس کی جانب سے تلاشی مہم اور انکاؤنٹرس کا سلسلہ جاری ہے۔ امن مذاکرات کمیٹی نے اس سلسلہ میں چیف منسٹر ریونت ریڈی سے مساعی کی درخواست کی تاکہ انکاؤنٹر کے واقعات کو روکا جاسکے۔1