’’ماہ صفر یا کسی بھی مہینے کو منحوس سمجھنا جائز نہیں، یہ جاہلیت کا عقیدہ ہے جو اسلام سے پہلے کے دور سے چلا آ رہا ہے‘‘ ۔نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے، نہ کوئی دن منحوس ہے، یہ تمام باتیں جاہلوں کے عقائد ہیں جنہیں ترک کرنا واجب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بیماری خودبخود نہیں ہوتی، اور نہ ہی صفر میں کوئی نحوست ہے۔‘‘(مفہوم حدیث)۔
ان کے علاوہ بھی اسلامی تعلیمات میں یہ بات وضاحت و صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ ماہ صفر میں کوئی نحوست نہیں ہے۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہر دن، ہر مہینہ اور ہر سال اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے۔ ہمیں ہر وقت نیک اعمال، دعاؤں، خیر خواہی، اور عبادات میں مشغول رہنا چاہیے۔ اگر ہم’’ماہ صفر‘‘ میں عبادت، تلاوتِ قرآن، صدقہ و خیرات، اور سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کریں تو یہ مہینہ بھی ہمارے لیے’’مظفر‘‘یعنی کامیابی والا بن سکتا ہے۔
صفر کا معنی خالی ہونا ہے، چونکہ ماہ صفر سے پیش تر مسلسل تین مہینے’’ ذو القعدۃ الحرام، ذو الحجۃ الحرام اور محرم الحرام‘‘ حرمت والے ہیں۔ مذکورہ مہینوں میں اہل عرب جنگ وجدال، قتل وغارت گری سے اجتناب کرتے، مگر جب یہ حرمت والے مہینے گزر جاتے تو اہل عرب رختِ سفر باندھ لیتے یا میدانِ جنگ وجدال کا عزم کرلیتے، جنکے سبب اُن کے گھر خالی ہوجاتے تھے، نتیجتاً اس مہینے کو ماہ صفر سے یاد کیا جانے لگا، جیسا کہ اہل عرب اسی معنی کو ادا کرنے کے لئے بولتے ہیں’’صفِر المکان‘‘ (مکان خالی ہوگیا)۔
ماہ صفر میں لوٹ مار، قتل وقتال، چوری ڈکیتی کی بہتات تھی مزید برآں اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے ماہِ محرم کو ماہِ صفر قرار دے دیتے پھر کسی دوسرے مہینے کو ماہِ محرم مان لیتے، اس طرح وہ حلت کو حرمت اور حرمت کو حلت والا مہینہ قرار دے کر عظیم جرم کا ارتکاب کرتے۔ جب انہیں اپنے کرتوتوں کے سبب مصائب وآلام کا سامنا ہوا تو یہ فاسد نظریہ قائم کرلیا کہ ’’صفر‘‘ منحوس مہینہ ہے ۔ پھر دورِ جاہلیت کے یہ نظریات نسل درنسل منتقل ہوتے رہے یہاں تک کہ اب بھی بعض ذہنوں میں یہ فاسد نظریات پروان چڑھ رہے ہیں۔ حالاں کہ اللہ کے رسولﷺ نے’’ لا صفر‘‘ فرماکر تمام باطل عقائد ونظریات کا قلع قمع فرما دیا تھا۔
تیرہ تیزی یعنی صفر المظفر کے ابتدائی تیرہ تاریخوں کے متعلق عوام الناس نے کئی خلاف شرع باتیں گڑھ لی ہیں، جس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ لہذا جب انسان کسی بلا وآزمائش میں مبتلا ہو یا کوئی مصیبت وآفت دستک دے تو زمانہ اور وقت پر الزام نہ لگائے بلکہ اپنے افعال واعمال کا محاسبہ کرے، بدشگونی اور غیر ضروری رسم ورواج سے اجتناب کرے، گناہوں سے توبہ کرے، ترکِ معصیت کا عزم مصمم کرے، افعال خیر کی انجام دہی کا التزام کرے۔ ان شاء اللہ! دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں گی۔
[email protected]