ماہِ صفر: توہمات کا نہیں، توکلِ الٰہی کا مہینہ

   

حافظ محمد صابر پاشاہ
اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جس نے انسان کو جہالت، توہم پرستی اور بے بنیاد عقائد کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان، علم اور یقین کی روشنی عطا کی۔ بعثتِ نبوی ﷺسے قبل عرب معاشرہ بے شمار خرافات اور باطل نظریات میں مبتلا تھا۔ ان ہی میں ایک یہ عقیدہ بھی تھا کہ اسلامی قمری سال کا دوسرا مہینہ، یعنی ماہِ صفر منحوس ہے، اس میں شادیاں کرنا، نئے کام شروع کرنا یا سفر اختیار کرنا نقصان اور مصیبت کا باعث بنتا ہے۔ اسلام نے ان تمام بے بنیاد تصورات کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا اور واضح فرمایا کہ نفع و نقصان، عزت و ذلت، خوشی و غم اور کامیابی و ناکامی صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ کسی دن، تاریخ یا مہینے کو بذاتِ خود منحوس سمجھنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔اسلام آیا تو اس نے اس غلط نظریئے کی اصلاح فرمائی اور واضح کیا کہ کسی مہینے میں بذاتِ خود کوئی نحوست نہیں ہوتی بلکہ انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہوتا ہے۔قرآنِ مجید واضح اعلان کرتا ہے کہ نفع و نقصان صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔’’اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو اس کے فضل کو کوئی روک نہیں سکتا‘‘۔ایک اور مقام پر فرمایا :’’انسان پر آنے والی بہت سی مصیبتیں اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں، اگرچہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بہت سی لغزشوں کو معاف بھی فرما دیتا ہے‘‘۔اور سورۂ نساء میں فرمایا: ’’ ہر بھلائی اللہ کی طرف سے ہے اور ہر برائی انسان کی اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے‘‘۔یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ کوئی دن یا مہینہ بذاتِ خود منحوس نہیں ہوتا، بلکہ انسان کی کامیابی یا ناکامی اس کے ایمان، اعمال اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد سے وابستہ ہے۔رسولِ اکرم ﷺ نے جاہلیت کے تمام باطل عقائد کی نفی کرتے ہوئے فرمایا:’’اللہ کے حکم کے بغیر بیماری متعدی ہونے، ماہِ صفر کی نحوست اور پرندوں سے بدشگونی لینے کا عقیدہ بے بنیاد ہے‘‘۔اس حدیثِ مبارکہ نے واضح کر دیا کہ ماہِ صفر میں نحوست کا عقیدہ اسلام میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ محدثِ جلیل حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:’’عوام ماہِ صفر کو بلاؤں، حادثوں اور آفتوں کے نازل ہونے کا مہینہ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ عقیدہ سراسر باطل ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں‘‘۔لہٰذا صفر میں جنات کے نزول، مخصوص بلاؤں کے اُترنے یا اس مہینے کو منحوس سمجھنے کی تمام باتیں محض وہم اور جہالت ہیں۔