ماہ ِصفَر کی بدعات

   

اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ’’صَفَرُ المُظَفَّر‘‘شروع ہو چکا ہے،یہ مہینہ انسانیت میں زمانۂ جاہلیت میں منحوس، آسمانوں سے بلائیں اترنے والا اور آفتیں نازل ہونے والا مہینہ سمجھا جاتا تھا۔زمانۂ جاہلیت کے لوگ اس ماہ میں خوشی کی تقریبات (شادی، بیاہ اور ختنہ وغیرہ )قائم کرنا منحوس سمجھتے تھے۔ اور قابلِ افسوس امر یہ ہے کہ یہی نظریہ نسل در نسل آج تک چلا آرہا ہے، حالانکہ سرکارِ دوعالم ا نے بہت ہی صاف اور واضح الفاظ میں اس مہینے اور اس مہینے کے علاوہ پائے جانے والے والے توہمات اور قیامت تک کے باطل نظریات کی تردیداور نفی فرما دی اور علی الاعلان ارشاد فرما دیا کہ:(اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر) ایک شخص کی بیماری ، دوسرے کو (خود بخود)لگ جانے(کا عقیدہ) ماہِ صفر (میں نحوست ہونے کا عقیدہ) اور (ایک مخصوص) پرندے کی بد شگونی (کا عقیدہ) سب بے حقیقت باتیں ہیں۔ملاحظہ ہو: عن أبی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال: قال النبیﷺ :’لٰا عَدْوَیٰ ولا صَفَرَ ولا ھَامَۃَ‘‘۔
(صحیح البخاری،کتاب الطب،باب الھامۃ)
مذکورہ حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میںاس قسم کے فاسد و باطل خیالات و نظریات کی کوئی گنجائش نہیں ہے، ایسے نظریات و عقائد کو سرکارِدو عالم اپنے پاؤں تلے روند چکے ہیں۔
خرافات سے بچانے کی کوشش کریں ۔اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا سَأَلَکَ مِنْہٗٗ نَبِیُّک مُحَمَّدٌ ﷺ وَ عِبادُکَ الصَّالِحُوْنَ، وأَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ مِنْہٗ نَبِیُّک مُحَمَّدٌ ﷺ وَ عِبَادُکَ الصَّالِحُوْنَ۔