متحدہ آندھرا کی تقسیم ، ہند ۔ پاک سے بھی بدتر : تیجسوی سوریہ

   

لوک سبھا میں متنازعہ ریمارکس ، مجاہدین تلنگانہ کی سخت مذمت ، سوشیل میڈیا پر نئی بحث
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ تیجسوی سوریا نے متحدہ آندھرا پردیش کی تقسیم پر لوک سبھا میں متنازعہ ریمارکس کرتے ہوئے اس کو ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم سے بھی زیادہ بدتر قرار دیا جس پر ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی ۔ بنگلور ساوتھ لوک سبھا کی نمائندگی کرنے والے تیجسوی سوریا نے آندھرا پردیش ری آرگنائزیشن ( ترمیمی ) بل 2026 پر بحث کے دوران کہا کہ یو پی اے حکومت نے ریاست کی تقسیم غیر سائنسی اور عجلت میں کی۔ جس کے اثرات آج بھی دونوں ریاستوں کو درپیش مسائل کی صورت میں ظاہر ہورہے ہیں ۔ اپوزیشن کے شور و غل کے درمیان انہوں نے کہا کہ جس طرح کانگریس پارٹی نے متحدہ آندھرا پردیش کو تقسیم کیا ۔ وہ اس سے بھی زیادہ بدتر طریقے سے کیا گیا جیسے برطانوی دور میں ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم ہوئی تھی ۔ ان کے اس بیان پر اپوزیشن نے سخت اعتراض کیا اور اسے تاریخی حقائق کے منافی قرار دیا ۔ یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پارلیمنٹ میں 2014 کے اصل ایکٹ میں مجوزہ ترامیم پر غور کررہی ہے ۔ یہ بحث ڈی لیمیٹیشن بل 2026 سے بھی جڑی ہوئی ہے ۔ جس کے تحت تلگو ریاستوں کے سیاسی نقشے میں بڑی تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے ۔ تیجسوی سوریا کا کہنا ہے کہ یو پی اے دور میں کی گئی تقسیم جلد بازی اور نا اہلی کے باعث پانی کی تقسیم ، وسائل کی تقسیم اور اثاثوں کے معاملات آج تک حل طلب ہیں ۔ جو دونوں ریاستوں کے درمیان کشیدگی کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے تلنگانہ عوام کے جذبات متاثر ہوئے ہیں ۔ 1947 کی تقسیم جیسے حساس تاریخی واقعہ سے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کا موازانہ کرنا مناسب نہیں ہے ۔ اس معاملے پر سیاسی حلقوں اور سوشیل میڈیا پر بحث تیز ہوگئی ہے ۔ مجاہدین تلنگانہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سے معذرت خواہی کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔۔ 2/m/b