متعدد سرکردہ اسکولس میں داخلوں کی تکمیل

   

مسلمہ حیثیت پوشیدہ، ایس ایس سی امتحانات کے وقت غیرمسلمہ ہونے کا انکشاف
حیدرآباد۔14فروری(سیاست نیوز) شہر میں تعلیمی سال کے آغاز کے سلسلہ میں بیشتر خانگی اسکولوں نے اپنے داخلوں میں تیزی لانی شروع کردی ہے اور کئی سرکردہ اسکولوں میں داخلوں کا عمل مکمل کیا جاچکا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں چلائے جانے والے اسکولوں میں اپنے بچوں کو داخلہ دلوانے سے قبل والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسکولوں کی مسلمہ حیثیت سے متعلق تفصیلات حاصل کرنے کے بعد ہی اسکول میں داخلہ کروائیں کیونکہ شہر میں کئی سرکردہ اسکولوں کی جانب سے اپنی شاخیں کھولتے ہوئے یہ باور کروانے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ ان اسکولوں کی تمام شاخوں کو مسلمہ حیثیت حاصل ہے لیکن بچوں کی تعلیم و تربیت کے کئی برس گذرنے کے بعد جب طلبہ ایس ایس سی امتحان تحریر کرنے کی منزل پر پہنچتے ہیں والدین اور سرپرستوں کو اس بات کی اطلاع موصول ہوتی ہے وہ جس اسکول سے تعلیم حاصل کئے ہیں اس اسکول کی مسلمہ حیثیت ہی نہیں ہے اور وہ کسی اور شاخ سے طلبہ کی فیس جمع کروارہے ہیں۔ سرکردہ خانگی اسکولوں کی جانب سے کی جانے والی یہ حرکت والدین اور سرپرستوں کے لئے تکلیف کا باعث بن رہی ہے اور خود طلبہ کو بھی ذہنی اذیت میں مبتلاء کرنے کا سبب یہ حرکت ہوتی ہے ۔ اسکولوں کے ذمہ داروں کی جانب سے چند ایک اسکولوں کی مسلمہ حیثیت حاصل کرتے غیر مجاز طور پر چلائے جانے والی شاخوں کے خلاف کاروائی کرنا محکمہ تعلیم کی ذمہ داری ہے لیکن محکمہ تعلیم کی جانب سے بڑے پیمانے پر رشوت اور بدعنوانیوں کو فروغ دیتے ہوئے ایسے اسکولوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں ایسے کئی اسکول شہر کے مختلف محلہ جات میں شروع کئے جاچکے ہیں اور سینکڑوں بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کا سبب بن رہے ہیں۔ اسکول انتظامیہ ہر شاخ کے لئے مسلمہ حیثیت حاصل کرنے سے اس لئے گریز کرتے ہیں کیونکہ انہیں مسلمہ حیثیت کے حصول کے لئے ان تمام قوانین اور رہنمانہ خطوط پر عمل آوری کرنی پڑتی ہے جو محکمہ تعلیم کی جانب سے تیار کئے گئے ہیں اور بغیر مسلمہ حیثیت حاصل کئے جو اسکول کھولے جانے لگے ہیں وہ نہ صرف طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے لئے خطرہ ہیں بلکہ جن عمارتوں میں یہ اسکول چلائے جاتے ہیں وہ بھی محفوظ نہیں ہوتیں اسی لئے داخلوں کے موسم میں اسکولوں میں داخلہ سے قبل والدین اور سرپرستوں کو اسکولوں کی مسلمہ حیثیت اور محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کئے جانے والے تعلیمی اجازت ناموں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے اس بات کی طمانیت حاصل کرنی چاہئے کہ وہ جس اسکول میں اپنے بچوں کا داخلہ کروارہے ہیں اس اسکول کو محکمہ تعلیم کی جانب سے داخلہ حاصل کرتے ہوئے تعلیم کی فراہمی کی اجازت حاصل ہے یانہیں بالخصوص اس شاخ کو داخلوں اور تعلیمی ادارہ چلانے کی اجازت حاصل ہے یا نہیں اس بات کی طمانیت حاصل کرنے کے بعد ہی داخلہ کروائیں۔3
تلنگانہ مسلمہ اسکولوں کے ذمہ داروں کی اسوسیشن نے اس سلسلہ میں ڈائریکٹر آف اسکول ایجوکیشن مسٹر نوین نکولاس سے نمائندگی کرتے مسلمہ حیثیت حاصل نہ کرتے ہوئے چلائے جانے والے اسکولوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ غیر مسلمہ اسکولوں کی بہتات کے نتیجہ میں مسلمہ اسکولوں کو بھی کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔3