ٹکٹ کے خواہشمند افراد بھی سرگرم ہوگئے ۔ بی آر ایس اور کانگریس میں متبادل حکمت عملی پر غور شروع
حیدرآباد۔5۔فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں مجلس کی جانب سے آئندہ انتخابات میں 50نشستوں پرمقابلہ کا ارادہ ظاہر کئے جانے کے بعد سیاسی جماعتوں بالخصوص بھارت راشٹر سمیتی اور کانگریس میں ہلچل پیدا ہوچکی ہے اور مجلس کے ٹکٹ پر مقابلہ کے خواہاں افراد کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ کہا جار ہاہے کہ ریاست میں بیشتر حلقہ جات اسمبلی سے اگر مجلس اپنے امیدوار اتارتی ہے تو شہر کے بعض قائدین کو اضلاع کے حلقہ جات سے مقابلہ کیلئے اتارا جاسکتا ہے اسی لئے جو امیدوار خود کو اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل تصور کر رہے ہیں انہوں نے اس سلسلہ میں مہم بھی شروع کردی ہے۔ قائد مجلس اکبر الدین اویسی کی جانب سے اسمبلی میں آئندہ انتخابات میں 50 امیدواروں کو میدان میں اتارنے کی رائے کا کھل کر اظہار کئے جانے کے بعد بی آر ایس کے ان ارکان اسمبلی اور وزراء میں خوف پیدا ہونے لگا ہے جو کہ مسلم ووٹرس پر اپنی کامیابی کا انحصار کئے ہوئے ہیں اور بوقت انتخابات وہ مسلم جماعت کی راست یا بالواسطہ تائید پر انحصار کر تے ہیں علاوہ ازیں کانگریس میں بھی اس اعلان کے بعد از سر نو حکمت عملی کی تیاری کی بات کی جانے لگی ہے کیونکہ کانگریس تلنگانہ میں خود کو بی آر ایس کے سیکولر متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش میں ہے اور اگر ایسے میں مجلس سے 50امیدوار میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو کانگریس اور بھارت راشٹرسمیتی دونوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ اسی طرح دونوں جماعتیں بالخصوص بھارت راشٹر سمیتی بھی خود کو مجلس سے دور ظاہر کرنے کی کوشش میں مصروف ہے کیونکہ تلنگانہ میں بی جے پی کے بڑھتے اثر کودیکھتے ہوئے بی آر ایس قائدین مجلس کے ساتھ رہ کر بی جے پی سے مقابلہ کو ناممکن قرار دینے لگے ہیں جبکہ مجلس کیلئے کانگریس شجر ممنوعہ بنی ہوئی ہے لیکن سیاست میں کوئی مستقل دوستی یا دشمنی نہیں ہوتی اس کی کئی مثالیں موجود ہیں اسی لئے یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ اگر بی آر ایس اور مجلس کے درمیان دوریوں میں اضافہ ہوتا ہے تو مجلس اور کانگریس کی دوریوں میں کمی نہیں ہوگی کیونکہ 2014 اسمبلی انتخابات سے قبل ٹی آر ایس کو مجلس سے آر ایس ایس کی ایجنٹ قرار دیا جاتا رہا تھا لیکن 2014میں کے سی آر کے اقتدار پانے کے بعد مجلس و ٹی آر ایس میں دوستانہ تعلقات ہوگئے اور اب 9 سال بعد بی آر ایس اور مجلس کے مابین دوریوں کا احساس پیدا ہونے لگا ہے کیونکہ گذشتہ کئی ماہ سے مجلسی ارکان اسمبلی اور قائدین کی نمائندگیوں کو حکومت سے نظرانداز کیا جا رہاہے اور اب جبکہ انتخابات قریب ہیں تو ایسے میں ان دوریوں کا فائدہ دیگر سیاسی جماعتیں حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگی ہیں ۔