اب تک 5 مقامات کی نشاندہی، تعمیرابھی دور است
حیدرآباد۔ 5 ۔ ستمبر ( سیاست نیوز ) محبوب نگر میں منی حج ہاوز کی تعمیر تعطل کا شکار ہوگئی ہے چار سال کے دوران پانچ مقامات کی تبدیلی کے باوجود حج ہاوز کی تعمیر کا ہنوز آغاز نہیں ہوا ہے ۔ اس سے ٹی آر ایس حکومت اور مقامی ریاستی وزیر اکسائیز وی سرینواس گوڑ کی مسلمانوں سے ہمدردی اور سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے ۔ ریاست کے ہیڈکوارٹر حیدرآباد میں حج ہاوز قائم ہے اس کے علاوہ تلنگانہ کے مختلف ضلع ہیڈکوارٹرس پر منی حج ہاوز تعمیر کرنے کے اعلانات کئے گئے ہیں تاہم صرف سدی پیٹ ہیڈکوارٹر پر منی حج ہاوز تعمیر ہو پایا ہے ۔ محبوب نگر میں بھی منی حج ہاوز تعمیر کرنے کا اعلان ہوا مگر گزشتہ چار سال میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے ۔ چار سال قبل 2018 میں جب چیف منسٹر کے سی آر نے اسمبلی تحلیل کرنے اور قبل از وقت اسمبلی انتخابات کا سامنا کرنے کا اعلان کیا تھا اُسی دن عجلت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محبوب نگر کے مقامی رکن اسمبلی وی سرینواس گوڑ نے وقف کامپلکس محبوب نگر کی قدیم عمارت کا انہدام کرتے ہوئے اُسی مقام پر منی حج ہاوز تعمیر کرنے کا ناصرف اعلان کیا تھا بلکہ سنگ بنیاد بھی رکھا تھا ۔ اس کے بعد انتخابات منعقد ہوئے ریاست میں ٹی آر ایس کو اقتدار حاصل ہوا اور چیف منسٹر کے سی آر نے اپنی کابینہ میں وی سرینواس گوڑ کو شامل بھی کرلیا ۔ اس کے بعد ( مرلو ) محبوب نگر میں مسجد کے قریب ایک مسلم شخص کی جانب سے حج ہاوز کی تعمیر کیلئے اراضی دینے کا اعلان کیا ۔ وی سرینواس گوڑ نے وہاں منی حج ہاوز کی تعمیر کیلئے دوبارہ سنگ بنیاد رکھا مگر وہاں پر بھی منی حج ہاوز کی تعمیر کا آغاز نہیں ہوا اس کے بعد اردو گھر محبوب نگر کا انہدام کرتے ہوئے حج ہاوز تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا وہ بھی کھٹائی میں پڑگیا ۔ پھر محبوب نگر میں 1500 گز وقف اراضی ہے وہاں منی حج ہاوز تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا پھر اس فیصلے سے بھی دستبرداری اختیار کی گئی اس کے بعد دوبارہ جے جے آر فنکشن ہال مولا علی کے پاس موجود 500 گز اراضی کے پاس منی حج ہاوز تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ یہاں پر پہونچنے کیلئے راستہ ہی نہیں ہے ۔برج کے نیچے سے گذرنا پڑتا ہے جو عوام کیلئے مشکلات کا سبب بن سکتا ہے ۔ حکومت اور مقامی وزیر محبوب نگر کے مقامی مسلمانوں کی سہولت کیلئے منی حج ہاوز تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو قابل ستائش اقدام ہے ۔ مگر چار سال کے دوران پانچ مقامات کی تبدیلی سے مسلمانوں میں مایوسی اور تشویش پائی جاتی ہے ۔ بار بار حج ہاوز تعمیر کرنے کی جگہ کیوں تبدیل کی جارہی ہے یہ بہت بڑا سوال ہے ۔ منی حج ہاوز تعمیر کرنے کیلئے ابھی تک جیتنے بھی مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے اس سے کیوں دستبرداری اختیار کی گئی ہے حکومت کی اس ٹال مٹول کی پالیسی سے مقامی مسلمانوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے اور وہ حکومت اور مقامی ریاستی وزیر وی سرینواس گوڑ سے سوال کررہے ہیکہ محبوب نگرمیںلب سڑک منی حج ہاوز کی تعمیر کیلئے کیوں سرکاری اراضی مختص نہیں کی جارہی ہے اور جلد از جلد تعمیری کام شروع نہیں کیا جارہا ہے ۔ منی حج ہاوز کی تعمیر میں کونسی طاقتیں رکاوٹیں بن رہی ہیں اس پر وضاحت کرنا حکام کی ذمہ داری ہے ۔ ریاستی وزیر سرینواس گوڑ کی بھی ذمہ داری ہیکہ وہ مسلمانوں سے کئے گئے وعدے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ڈسٹرکٹ انتظامیہ کا فوری اجلاس طلب کریں اور منی حج ہاوز کی تعمیر کا جلد از جلد آغاز کریں ۔ ( ن )