اردو گھر اور شادی خانہ کا سنگ بنیاد بھی شامل ، کسانوں کے جلسہ عام سے چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خطاب
حیدرآباد۔30۔نومبر(سیاست نیوز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج اپنے دورۂ ضلع محبوب نگر کے دوران 1435کروڑ کے ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد اور افتتاح انجام دیا۔ انہوں نے محبوب نگر میں 45 کروڑ کی لاگت سے نئے اردو گھر‘ شادی خانہ برائے اقلیتی طبقات‘ اور قبرستان کی دیوار کے کاموں کا سنگ بنیاد رکھا ۔ اس کے علاوہ ضلع محبوب نگر میں مختلف ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا گیا کے جی بی وی اسکولوں کی نئی عمارتوں کی تعمیر کے سنگ بنیاد بھی شامل ہیں۔ اس موقع پر چیف منسٹر نے محبوب نگر میں منعقدہ کسانوں کے جلسہ عام سے خطاب کے دوران لگیچرلہ میں حصول اراضی کے معاملہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کئی چیف منسٹر گذر گئے لیکن محبوب نگر میں صنعتوں کے فروغ کے سلسلہ میں اقدامات نہیں کئے گئے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں کئی پراجکٹس کے لئے تمام چیف منسٹرس نے اپنے اپنے علاقوں میں حصول اراضیات کے قانون کا استعمال کرتے ہوئے ان علاقوں کو ترقی دینے کے اقدامات کئے ہیں اور آج محبوب نگر کا بیٹا اپنی سرزمین کو ترقی دینے کے لئے کسانوں کی اراضیات حاصل کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے لئے کچھ قربانی دینی پڑتی ہے اور وہ آج عوام کے درمیان یہ بات کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ اپنی جائیدادوں کو حوالہ کرتے ہیں تو یہاں صنعتی ترقی ہوگی اور اس علاقہ میں آئندہ نسلوں کو روزگار حاصل ہوگا ۔ چیف منسٹر نے اپنے خطاب کے دوران متاثر ہونے والے کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ بی آر ایس کی سازشوں اور پروپگنڈہ کا شکار ہوتے ہوئے جیل جانے کے بجائے اپنے بہتر مستقبل کے لئے حکومت سے تعاون کریں تاکہ ریاستی حکومت ضلع محبوب نگر میں جو پراجکٹس شروع کرنے جا رہی ہے انہیں مکمل کیا جاسکے۔مسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر کا عہدہ ان کا خواب نہیں بلکہ وہ اسے ذمہ داری سمجھ کر نبھا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت محبوب نگر کی ترقی کے لئے اقدامات کر رہی ہے جبکہ سابقہ حکومتوں کی جانب سے پالمورو پراجکٹ کو بھی نظر انداز کیا جاتا رہا ہے ۔انہوں نے استفسار کیا کہ ریاست میں گذشتہ 10 سال کے دوران کسانوں کے قرض معاف کئے گئے !جبکہ تلنگانہ میں کانگریس نے اقتدار حاصل کرتے ہی 2لاکھ تک کے قرض کی معافی کا وعدہ پورا کیا ہے۔انہو ںنے کسانوں کے قرض معافی پر خرچ کی گئی رقم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ کے سی آر کو چیالنج کرتے ہیں کہ وہ ملک کی کسی بھی ریاست میں اتنی بڑی رقم کسانوں کے قرض معافی کے لئے خرچ کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومت نے 25لاکھ کسانوںکے قرض کی معافی کے لئے 21 ہزار کروڑ خرچ کئے ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ کے سی آر نے پالمورو کو اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن 10 برسوں کے اقتدار کے دوران حکومت کی جانب سے اس علاقہ میں کوئی ترقیاتی کام انجام نہیں دیئے گئے ۔مسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ اگرحکومت نارائن پیٹ۔ کوڑنگل پراجکٹ کی تکمیل میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس علاقہ کے عوام اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائیں گے۔چیف منسٹر نے کہا کہ وہ ریاستی کابینہ سے خواہش کریں گے کہ ضلع محبوب نگر کے لئے سالانہ 20ہزار کروڑ کے بجٹ کی تخصیص کو یقینی بنائیں تاکہ ضلع محبوب نگر سے ہونے والی ناانصافیوں کو دور کیا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ 5 سال کے دوران اگر محبوب نگر کو 1لاکھ کروڑ حاصل کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں اس ضلع کی ترقی کو یقینی بنایا جانا ممکن نہیں ہے۔انہو ںنے کہا کہ کے سی آر کا گجویل میں ہزار ایکڑ پر محیط فارم ہاؤز ہے تو کیامحبوب نگر کے علاقہ کے عوام کے لئے 1300ایکڑ پر محیط انڈسٹریل ویلیج نہیں چاہئے تاکہ اس علاقہ کے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی عمل میں لائی جاسکے ۔3