نئی دہلی : سپریم کورٹ نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے لیڈر محمد فیضل کی لوک سبھا رکن کے طور پر بحالی کو چیلنج کرنے والی ایک وکیل کی عرضی کو عدالت کا’ وقت ضیاع ‘قرار دیتے ہوئے وکیل کو فیس کے طور پر ایک لاکھ روپئے ادا کرنے کے حکم کے ساتھ ہی درخواست کو خارج کر دیا۔ جسٹس بی آر گوئی،جسٹس اروندر کمار اورجسٹس پرشانت کمار مشرا کی بنچ نے حیرت کا اظہار کیا کہ درخواست گزار وکیل ہونے کے باوجود غیر سنجیدہ فضول درخواست کیسے دائر کر سکتا ہے۔لکھنؤ کے اشوک پانڈے نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ انہوں نے عرضی میں دلیل دی تھی کہ ایک بار جب کوئی رکن پارلیمنٹ کسی فوجداری مقدمہ میں سزا سنائے جانے کی وجہ سے اپنا عہدہ کھو دیتا ہے تو وہ اس وقت تک نااہل رہے گا جب تک کہ اسے ہائی کورٹ سے بری نہیں کر دیا جاتا ہے۔ بنچ نے درخواست گزار کے مختصر دلائل سننے کے بعد ان کی درخواست خارج کر دی۔ اس کے علاوہ وکیل پر ایک لاکھ روپے فیس عائد کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔ 50 ہزار روپے سپریم کورٹ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اسوسی ایشن کو اور باقی 50 ہزار سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن کو جمع کرائیں۔
بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ اگر فیس آج سے چار ہفتوں کے اندر اندر ایس سی او اے آر اے اور ایس سی بی اے کے پاس جمع نہیں کرائی جاتی ہے، تو یہ زمین کی محصولات کے بقایا جات کے طور پر وصول کی جائے گی۔ 13 اکتوبر کو چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی قیادت والی بنچ نے اشوک پر ایک اور پی آئی ایل دائر کرنے پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔