مارچ کے اواخر تک 14,367 کروڑ روپے وصول ہونے کی توقع، گزشتہ سال 14,588 کروڑ روپے حاصل ہوئے
حیدرآباد۔ 10 مارچ (سیاست نیوز) محکمہ اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن کی جانب سے مالیاتی سال کے اختتام تک زیادہ سے زیادہ ریونیو اکٹھا کرنے کی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے اپنے اقدامات میں تیزی پیدا کردی ہے۔ کم از کم گزشتہ سال جو آمدنی حاصل ہوئی تھی وہاں تک پہنچنے کے عزم کے ساتھ کام کیا جارہا ہے۔ ملک بھر کے ریئل سیکٹر کے سست روی نے ریاست کو بھی متاثر کیا ہے جس سے توقع کے مطابق آمدنی حاصل نہ ہوسکی۔ گزشتہ مالیاتی سال محکمہ اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن کو 14,588 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی تھی جبکہ اس سال فروری تک 12,867.13 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی تھی۔ ماضی کی طرح مارچ میں لین دین میں اضافہ ہوگا۔ عہدیدار امید کررہے ہے کہ غیر مجاز لے آؤٹس (LRS) کو ریگولرائز کرنے سے بھاری آمدنی حاصل ہوگی۔ فروری میں آمدنی 1202 کروڑ روپے تھی۔ اس کی بنیاد پر یہ اندازہ لگایا جارہا ہیکہ اس آمدنی میں مارچ کے اواخر تک مزید 300 کروڑ روپے کا اضافہ ہوگا۔ بتایا جارہا ہے کہ جاریہ مالیاتی سال جملہ آمدنی بڑھ کر 14,367 کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ مئی، ستمبر اور جنوری کے مہینوں میں ریئل اسٹیٹ کاروبار توقع کے مطابق نہیں تھا۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں مئی میں 237 کروڑ ستمبر میں 303.71 کروڑ، جنوری میں 73.69 کروڑ روپے کی آمدنی میں کمی آئی ہے۔ ڈسمبر میں بھی معمولی کمی آئی ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف ماہ جولائی میں 451 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ تین سال سے سالانہ 18 لاکھ سے زیادہ دستایزات کی رجسٹریشن ہو رہی ہے۔ اس سال فروری تک صرف 15.87 لاکھ دستاویزات کی رجسٹری ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بیرون ممالک کیعدم استحکام اور معاشی بحران کی وجہ سے اس سال ولاز اور مکانات کی خریداری میں زیادہ سرمایہ کاری نہیں ہوئی ہے۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ مالیاتی سال 2023-24 میں اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات منعقد ہوئے جس سے رجسٹریشن کے لین دین پر اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ 2