ایک دوسرے سے ملاقات، مدرسہ کی حالت پر فکر کا اظہار، جناب زاہد علی خان، ڈاکٹر شاہد علی خان و دیگر شخصیتوں کی شرکت
حیدرآباد۔8۔جنوری(سیاست نیوز) مدرسۂ عالیہ کے طلبائے قدیم کا ایک عظیم الشان اجلاس نظام کالج میں منعقد ہوا جس میں مدرسۂ عالیہ کے فارغین و طلبائے قدیم نے شرکت کرتے ہوئے اپنے دور طالب علمی کی یادیں تازہ کیں۔نظام کلب میں منعقدہ اس تقریب میں کئی سرکردہ شہریان حیدرآباد نے شرکت کرتے ہوئے اپنی مدرسۂ عالیہ سے وابستگی کا اظہار کیا۔ جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست ڈاکٹر شاہد علی خان‘ جناب حاجی عبدالمنعم سیٹھ‘جناب ظہیر الدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست‘ جناب محمد افتخار حسین‘ جناب سید عبدالمتکبر ارشد ‘ جناب سید جاوید ہود‘ جناب سید ساجد پیرزادہ ‘ جناب محمد اظہر الدین سابق کرکٹ کپتان ‘ جناب مقبول احمد صدیقی جناب سید جہانگیر‘ جناب غلام محمد‘ جناب ظفر جاوید صدر نظام کلب‘ جناب نعیم صدیقی ‘ جناب حامد لطیف ‘جناب منیر الدین مختار‘جناب یوسف جعفر‘جناب تیج بہادر سنگھ ‘ جناب گجویندر سنگھ‘ جناب شبیر علی فٹ بال کھلاڑی‘کیپٹن اکرام الدین کلیم کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ طلبائے قدیم مدرسۂ عالیہ کی جانب سے اس موقع پر عالیہ اسکول کی تاریخ پر مشتمل ڈاکیومنٹری کو پیش کیا گیا اور طلبائے قدیم کی جانب سے منعقدہ کھیل کے مقابلوں میں حصہ لینے والوں کو انعامات کی تقسیم عمل میں لائی گئی ۔ فارغین مدرسۂ عالیہ کے مختلف بیاچس سے تعلق رکھنے والوں نے ایک دوسرے سے ملاقات کے دوران اپنے تجربات بیان کئے اور اس ملاقات کے دوران تمام فارغین جن میں کئی سرکردہ شخصیات موجود تھیں کو منتظمین کی جانب سے اعزاز دیئے گئے ۔ اس عشائیہ پر ملاقات کے پروگرام کے دوران جناب سید فاضل حسین پرویز کی نگرانی میں جناب محمد شہباز احمد کی جانب سے مختصر مدت میں تیار کا رسم اجراء بھی انجام دیا گیا۔ سینئر صحافی ایم سوما شیکھر نے اس تقریب کے دوران مدرسۂ عالیہ میں اپنے دور کی یادیں تازہ کیں اور ان کے تعلیمی سفر کے دوران عالیہ و نظام کالج کے متعلق تفصیلات سے واقف کروایا۔تقریب میں فارغین عالیہ کے علاوہ جناب تقی الدین شجیع‘ جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ جناب سید عبدالمتکبر ارشد نے مدرسۂ عالیہ کے فارغین کے اس اجلاس کے متعلق بتایاکہ مدرسۂ عالیہ کے 150سال کی تکمیل پر فارغین کی ملاقات اور مدرسہ کی حالت کے متعلق فکر کے اظہار و تعلقات کو استوار کرنے کے لئے اس کا انعقاد عمل میں لایا گیا ہے۔ اس پروگرام میں موجود بیشتر تمام طلبہ نے مدرسۂ عالیہ کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات اور منصوبہ بندی پر زوردیا۔م